نیتن یاہو کی وائٹ ہاؤس آمد: صدر ٹرمپ سے اوول آفس میں اہم ملاقات
28 فروری کو ایران کے خلاف شروع ہونے والی جنگ کے بعد دونوں رہنماؤں کی یہ پہلی بالمشافہ ملاقات ہے۔
فائل فوٹو
واشنگٹن: اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کے لیے وائٹ ہاؤس پہنچ گئے ہیں، جہاں دونوں رہنماؤں کے درمیان اوول آفس میں اہم بند کمرہ ملاقات ہوئی۔
وائٹ ہاؤس نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی یوکرینی صدر وولودیومیر زیلنسکی اور اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو کے ساتھ الگ الگ اہم ملاقاتوں کے اختتام کی تصدیق کر دی ہے۔
وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیوٹ نے سوشل میڈیا پر اپنے ایک بیان میں بتایا کہ اوول آفس میں ہونے والی دونوں اہم ملاقاتیں مکمل ہو چکی ہیں اور یہ انتہائی مثبت اور نتیجہ خیز ثابت ہوئی ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں پہلے یوکرینی صدر وولودیومیر زیلنسکی سے ملاقات کی، جس کے فوراً بعد اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو کے ساتھ بند کمرہ اجلاس ہوا۔
زیلنسکی کے ساتھ ملاقات میں دفاعی تعاون اور امن عمل میں پیش رفت پر بات چیت کی گئی، جبکہ نیتن یاہو کے ساتھ علاقائی صورتحال اور سیکیورٹی امور زیرِ بحث آئے۔
پریس سیکریٹری کیرولین لیوٹ کے مطابق دونوں رہنماؤں کے ساتھ بات چیت سازگار ماحول میں ہوئی اور امریکی انتظامیہ اسے ایک اہم پیش رفت قرار دے رہی ہے۔
President Trump has concluded his meetings in the Oval Office with President Zelenskyy and Prime Minister Netanyahu. Both meetings were positive and productive!
— Karoline Leavitt (@PressSec) July 28, 2026
جے ڈی وینس، مارکو روبیو اور پیٹ ہیگسیتھ بھی ملاقات میں شریک
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو کے درمیان اہم ملاقات میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور دیگر اعلیٰ حکام نے بھی شرکت کی ہے۔
اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر کی جانب سے سوشل میڈیا پر جاری کی گئی تصاویر کے مطابق، اس ملاقات میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے علاوہ وزیر خارجہ مارکو روبیو اور وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ سمیت بائیڈن و ٹرمپ انتظامیہ کے کئی دیگر اعلیٰ حکام موجود تھے۔
اگرچہ ملاقات میں طے پانے والے امور کی باضابطہ اور تفصیلی معلومات فوری طور پر جاری نہیں کی گئیں، تاہم ذرائع کے مطابق اجلاس کا بنیادی ایجنڈا مشرقِ وسطیٰ کی مجموعی صورتحال پر مبنی تھا۔ خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ملاقات میں امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف حکمتِ عملی کے ساتھ ساتھ غصہ اور لبنان میں جاری جنگی صورتحال اور سیکیورٹی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔
Prime Minister Benjamin Netanyahu is now meeting with US President @realDonaldTrump at the White House. pic.twitter.com/3px2EmNXWU
— Prime Minister of Israel (@IsraeliPM) July 28, 2026
28 فروری کو ایران کے خلاف شروع ہونے والی جنگ کے بعد دونوں رہنماؤں کی یہ پہلی بالمشافہ ملاقات ہے جو کہ اجلاس کے سرفہرست ایجنڈے میں شامل ہے۔
ملاقات میں لبنان میں جاری اسرائیلی عسکری اقدامات اور حزب اللہ کو ہتھیاروں سے پاک کرنے (ڈس ارمامنٹ) کے معاملات پر بھی تفصیلی گفتگو متوقع ہے۔
یہ ملاقات ایک ایسے حساس مرحلے پر ہو رہی ہے جب صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اگر ایران کے ساتھ مذاکرات ناکام ہوئے تو وہ شدید کارروائی پر غور کر رہے ہیں۔ تاہم آج وائٹ ہاؤس میں نیتن یاہو واحد مہمان نہیں ہیں۔
یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی نے بھی ایسے وقت میں ٹرمپ سے ملاقات کی ہے جب بحیرۂ کیسپین میں ایک ایرانی جہاز پر حملے کے بعد ایران اور یوکرین کے درمیان کشیدگی غیر معمولی سطح تک پہنچ گئی ہے۔