وزیراعظم آزاد کشمیر کی کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کو مذاکرات کی پیشکش

ایسا راستہ تلاش کر رہے ہیں کہ افہام و تفہیم سے مسئلہ حل ہو۔فیصل ممتاز راٹھور

June 9, 2026 · قومی

وزیرِ اعظم آزاد کشمیر فیصل ممتاز راٹھور نے کالعدم قرار دی گئی جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو مذاکرات کی پیش کش کردی ہے۔
انہوں نے کہا ہم کوئی ایسا راستہ تلاش کر رہے ہیں کہ افہام و تفہیم سے مسئلہ حل ہو، کیونکہ ریاست کو ہرا کر جوائنٹ ایکشن کمیٹی نہیں جیت سکتی اور اگر ریاست جیت بھی جائے تو انسانی جانوں کے ضیاع کے بدلے حاصل ہونے والی جیت کو، میں جیت تصور نہیں کروں گا۔ انسانی جانیں ضائع ہونے کی ذمہ دار حکومت اور ایکشن کمیٹی دونوں ہیں۔ وہ تمام لوگ بھی ذمہ دار ہیں جو بظاہر سامنے نظر نہیں آ رہے۔
ایکشن کمیٹی کے ممبر کالعدم ہو سکتے ہیں لیکن عوام جو ان کے ساتھ ہیں وہ کالعدم نہیں۔ جنگوں کے بعد بھی ملک بات چیت کیلئے بیٹھتے ہیں۔انھوں نے ایکشن کمیٹی کو پیشکش کی کہ وہ ’آئیں اور پھر سے بات چیت کا حصہ بنیں۔
بی بی سی اُردو کو دیے گئے خصوصی انٹرویو کے دوران جب وزیر اعظم فیصل ممتاز راٹھور سے سوال کیا گیا کہ آیا وہ اپنی حکومت کی جانب سے کالعدم قرار دیے جانے کے بعد بھی جوائنٹ ایکشن کمیٹی سے بات کرنے کو تیار ہیں؟ تو اُن کا کہنا تھا کہ جب طالبان سے بات چیت ہو سکتی ہے، تو اُن سے کیوں نہیں؟۔جب وزیر اعظم آزاد کشمیر سے دریافت کیا گیا کہ کیا جوائنٹ ایکشن کمیٹی کو کالعدم قرار دینے سے متعلق شواہد اُن کے پاس موجود ہیں؟ تو اس پر فیصل ممتاز راٹھور کا کہنا تھاشواہد میڈیا پر شیئر نہیں کیے جا سکتے۔ جن کے پاس شواہد ہیں، انھوں نے ہی کالعدم قرار دینے کا فیصلہ کیا۔ جب ریاست کے اندر ریاست بنانے کی کوشش کی گئی۔ آپ نے تمام سیاسی راستوں کو بند کیا تو ایسے حالات بن گئے۔
ان کا کہنا تھا مجھے پہلے سے علم تھا کہ معاملات تصادم کی طرف ہی جائیں گے۔آج صورتحال جس طرف جا چکی ہے۔ مجھے اس کا اندازہ پہلے ہی ہو چکا تھا کیونکہ میں وزیراعظم بننے سے قبل ہی مذاکراتی عمل کا حصہ تھا۔ مجھے اندازہ تھا کہ کہیں نہ کہیں ایسے حالات پیدا ہوں گے کہ جانوں کا ضیاع ہوگا۔ اسی لیے ہم نے ایکشن کمیٹی سے مزید وقت مانگا۔ یہ مہاجرین کی 12 نشستوں کے خاتمے کا مطالبہ آئینی مسئلہ تھا جس میں سیاسی جماعتوں کے مفادات بھی ہیں اور یہ اتفاق رائے کے بغیر ممکن نہیں تھا۔اسی لیے میں آل پارٹیز کانفرنس کے وقت خود ایکشن کمیٹی کے ممبران کے گھر گیا اور کہا آپ مذاکرات کے دروازے کو کھلا رکھیں۔مذاکرات کا راستہ بند ہو گیا تو صورتحال خطرناک ہو جائے گی۔
ان کا کہنا تھا ایکشن کمیٹی کی طرف سے یہ اشارے مل رہے تھے کہ مطالبات پورے ہونے کے بعد بھی لانگ مارچ ہو گا۔ مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ ویڈیوز سوشل میڈیا پر تھیں، جن میں اسمبلی پر حملہ کرتے ہوئے دکھایا جا رہا تھا۔
انھوں نے دعویٰ کیا کہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے سینئر اراکین نے انھیں کہا تھا کہ وہ ’خود براہ راست اس معاملے سے ڈیل کریں گے، لیکن اب سارا ملبہ مجھ پر ہی گرایا گیا ہے۔ میں اس صورتحال سے بری الذمہ نہیں، لیکن اس کا ذمہ دار میں اکیلا نہیں بلکہ ہر وہ شخص ہے، جس نے اس صورتحال میں ذمہ داری کا مظاہرہ نہیں کیا۔بات چیت کا یہ سلسلہ رُکنا نہیں چاہیے تھا۔ ریاست ایک نظام ہے جسے یہاں تک پہنچانے میں بہت وقت لگا ہے۔
فیصل ممتاز راٹھور نے کہا کہ پاکستان سے ہمارا رشتہ بہت مضبوط ہے۔ کسی بھی صورت شہریوں کی جانوں کا نقصان نہیں ہونا چاہیے تھا۔ میں ہمیشہ ایک بات کہتا رہا کہ مہاجرین کی سیٹیں ختم ہونے یا نہ ہونے پر بات ہو سکتی ہے، لیکن لاشیں گرنے کے بعد ہونے والے معاہدے کے نتیجے میں ضائع ہو جانے والی انسانی جانیں واپس نہیں آئیں گی۔انھوں نے کہا ’اگر دنیا میں بڑے ملکوں کی جنگیں رُک سکتی ہیں تو چھ دن کے لیے احتجاج کی کال بھی معطل ہو سکتی تھی۔
وزیرِ اعظم فیصل ممتاز راٹھور نے جموں کشمیر جوائنٹ ایکشن کمیٹی پر عدم تعاون اورسخت گیر موقف کا الزام بھی عائد کیا۔انھوں نے کہا ’اگر ماضی میں کسی سیاسی یا غیر سیاسی وجہ سے اس معاملے پر تاخیر ہو بھی گئی تھی تو چونکہ اب اس میں سارے اسٹیک ہولڈر شامل ہو چکے تھے اور باقی سیاسی جماعتوں کو بھی اتفاق رائے کے لیے جمع کیا گیا تھا، تو شاید ان سات دنوں میں مسئلے کا حل نکل سکتا تھا۔ لیکن دوسری طرف سے یہ سوچ پیدا ہو گئی تھی کہ یہ نشستیں ٹیبل پر بیٹھ کر نہیں بلکہ سڑکوں پر چھین لینی ہیں۔
فیصل ممتاز راٹھور نے کہا وہ تسلیم کرتے ہیں کہ معاملات میں تاخیر کی وجہ سے حکومت پر عدم اعتماد بڑھا۔ لیکن ان کا اصرار ہے کہ کہ ’اگر 38 نکات میں پیش رفت ہوئی تھی تو ایکشن کمیٹی کو بھی تعاون کرنا چاہیے تھا۔تین بار ریاست نے سرینڈر کیا۔ یہ احتجاج اُس نظام سے زیادہ طاقتور ہو رہا تھا، جس کے تحت میں یہاں وزیر اعظم بن کر بیٹھا ہوں۔ اس نظام نے ریاست کے ہر قانونی معاملے کو اپنے ہاتھ میں لینا شروع کر دیا تھا۔
وزیرِ اعظم کا کہنا تھا انھوں نے ایکشن کمیٹی کے نمائندوں کو حکومت کا حصہ بننے کی پیشکش بھی کی تھی۔’ہم نے کہا ایکشن کمیٹی الیکشن لڑے اور اسمبلی میں آ کر اپنی مرضی کا قانون بنا لے۔ باہر بیٹھ کر بات کرنا آسان ہے لیکن نظام کے اندر بیٹھ کر چیزیں خواہشات کے مطابق نہیں چلتیں۔ عوامی قوت حاصل کر کے ریاست سے ٹکراؤ کی صورتحال پیدا کر دی گئی۔ اس سوال پر کہ مہاجرین نشستوں کے حوالے سے ایک الزام یہ بھی ہے کہ ان سیٹوں کا استعمال حکومتی ایوانوں میں عدم استحکام لانے کے لیے بھی کیا جاتا رہا ہے۔

وزیرِ اعظم فیصل ممتاز راٹھور کہتے ہیں کہ وہ ان الزامات سے کافی حد تک اتفاق کرتے ہیں، لیکن مہاجرین کی نمائندگی سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا۔سیٹوں کے طریقہ کار سے اختلاف ضرور تھا تاہم مہاجرین کی نمائندگی پر سب کا اتفاق بھی تھا، بشمول سیاسی جماعتیں اور ایکشن کمیٹی کے۔ لیکن سیٹوں کا معاملہ انسانی زندگی سے بڑا نہیں۔ سیٹوں پر بات ہو سکتی ہے۔ اب بھی بات چیت گنجائش موجود ہے۔ ایمرجنسی کے ممکنہ نفاذ کی چہ میگوئیوں کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ وہ پوری کوشش کر رہے ہیں کہ حالات قابو میں آ جائیں اور کشیدگی ختم ہو۔اسلام آباد میں اسی لیے ہوں کہ ہم حالات کو نارمل کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کریں گے۔ کسی بھی طرح اس مسئلے کو حل کیا جائے۔ اس کے لیے پارٹی سربراہان اور وزیر اعظم پاکستان سے مزید ملاقاتیں ہونی ہیں۔