لبنان میں جنگ کا خاتمہ معاہدے کا لازمی حصہ ہے ، اسماعیل بقائی
معاہدے کا مطلب یہ نہیں کہ جرائم کو معاف یا بھول دیا جائے گا، پریس کانفرنس
فائل فوٹو
تہران:ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ایک پریس کانفرنس میں ایک بار پھر زور دیا ہے کہ ’لبنان امریکہ کے ساتھ طے پانے والے معاہدے کا اہم حصہ ہے۔‘
اسماعیل بقائی نے کہا کہ ’لبنان میں جنگ کا خاتمہ اس معاہدے کا لازمی حصہ ہے اور ہم عملی طور پر یہ ثابت کر چکے ہیں کہ ہم اس پر سنجیدہ ہیں اور دوسری جانب کی ذمہ داریوں پر عمل درآمد کے لیے تمام ذرائع استعمال کریں گے۔‘
انھوں نے اس سوال کا براہ راست جواب نہیں دیا کہ آیا مفاہمتی یادداشت میں اسرائیل کے جنوبی لبنان سے انخلا کا ذکر موجود ہے یا نہیں۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ ’اس معاہدے میں ’لبنان‘ کا لفظ تین مرتبہ آیا ہے، جس میں تمام محاذوں پر جنگ کے خاتمے، بشمول لبنان اور اس کی علاقائی سالمیت و خودمختاری کے احترام پر زور دیا گیا ہے۔‘
اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ معاہدے کا مطلب یہ نہیں کہ جرائم کو معاف یا بھول دیا جائے گا، اور ایرانی عوام پر ہونے والے مظالم کو کبھی فراموش نہیں کیا جائے گا۔
اسماعیل بقائی نے کہا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں میں اہم پیشرفت ہوئی ہے، تاہم ایران امریکی اور اسرائیلی مظالم کو نہیں بھولے گا، اور ایرانی عوام اپنی قیادت کے ساتھ کھڑے رہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان مفاہمت کی یادداشت پر جمعے کو جنیوا میں دستخط کیے جائیں گے، جبکہ دستخط کی تقریب سے قبل ایرانی حکام پڑوسی ممالک کے دورے کریں گے۔
ترجمان ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق عالمی ادارے ایران پر امریکا اور صیہونی جارحیت کی مذمت کرنے میں ناکام رہے ہیں۔
اسماعیل بقائی نے کہا کہ لبنان کے خلاف جارحیت کا خاتمہ امریکا ایران مفاہمتی یادداشت کا حصہ ہے، اور لبنان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام بھی اس معاہدے میں شامل ہے۔