ٹرمپ کا ایران معاہدے پر اظہارِ اعتماد۔جوہری خطرات کے خلاف مضبوط رکاوٹ قرار

ایران معاہدہ امریکی کانگریس کو بھیجا جا سکتا ہے،خطے میں امن کے امکانات بڑھنے کا دعویٰ

June 17, 2026 · بام دنیا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ طے ہونے والا نیا معاہدہ ایران کی ممکنہ جوہری عسکری صلاحیت کے خلاف ایک مضبوط رکاوٹ ثابت ہوگا۔

فرانس میں متحدہ عرب امارات کے صدر محمد بن زاید النہیان کے ساتھ ملاقات کے دوران میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ مجوزہ معاہدہ امریکی کانگریس کی نظرثانی کے لیے بھیجا جا سکتا ہے، تاہم انہیں یقین ہے کہ یہ معاہدہ خطے میں امن اور استحکام کے لیے اہم کردار ادا کرے گا۔

انہوں نے سابق امریکی صدر باراک اوباما کے دور میں ایران کے ساتھ ہونے والے جوہری معاہدے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ معاہدہ مشرق وسطیٰ کے لیے خطرناک تھا اور اس سے ایران کو مستقبل میں جوہری ہتھیار حاصل کرنے کا راستہ مل سکتا تھا۔

ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق ایران موجودہ کشیدگی کے خاتمے اور جلد از جلد معمول کے تجارتی و اقتصادی روابط کی بحالی کا خواہاں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ معاہدے کی مکمل تفصیلات ایک یا دو روز میں عوام اور میڈیا کے سامنے پیش کی جائیں گی۔

امریکی صدر نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ معاہدے کے تحت آبنائے ہرمز جمعے سے مکمل طور پر بحال اور کھول دی جائے گی، جبکہ اس اہم عالمی آبی گزرگاہ میں جہازوں سے کسی قسم کا ٹول ٹیکس یا اضافی فیس وصول نہیں کی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ اس معاہدے کا بنیادی مقصد خطے میں امن کو فروغ دینا، عالمی توانائی کی ترسیل کو محفوظ بنانا اور ایران کے جوہری پروگرام کو صرف پرامن مقاصد تک محدود رکھنا ہے۔