زندہ جلائے گئے تین افغانوں کے لواحقین اٹلی پہنچ گئے۔پاکستانی کی باقیات ورثاکی منتظر

مقامی کونسل نے متاثرہ خاندانوں کی آمدوروفت کے لیے سہولیات فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے

June 17, 2026 · امت خاص

فائل فوٹو

اٹلی میں زندہ جلائے گئے پاکستانی کی باقیات اپنے پیاروں کی راہ دیکھ رہی ہیں۔باقی تین جو افغان تھے ان کے لواحقین وہاں پہنچ گئے ۔ گذشتہ دنوں اٹلی کے علاقے کلابریا میں چار کھیت مزدور وں کوایک گاڑی کے اندر بند کرکے زندہ جلا دیاگیا تھا۔جاں بحق ہونے والوں میں ایک پاکستانی 29سالہ وسیم خان ہے۔ اس کا تعلق خیبرپختونخواسے بتایا گیاہے۔

ایک رپورٹ کے مطابق ،تین افغان شہریوں کے ورثا اٹلی پہنچ گئے اور انہوں نے مردہ خانہ میں رکھے اپنے پیاروں کے تابوت دیکھے۔اس موقع پر قریبی مسجد میں اجتماعی دعابھی ہوئی۔دوسری طرف ،پاکستانی نوجوان وسیم خان کے لیے تاحال کوئی اٹلی نہیں جاسکا۔

ذرائع کا بتاناہے کہ اٹلی کے جس علاقے میں یہ سانحہ ہوا ، اس شہرکی مقامی کونسل نے متاثرہ خاندانوں کی آمدوروفت کے لیے سہولیات فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔
کلابریا ریجنل کونسل نے متعلقہ حکام کو ہدایت دی ہے کہ میتوں کی واپسی اور تمام اخراجات کی ذمہ داری سنبھالی جائے۔

اطالوی حکام کا کہنا ہے کہ وہ وسیم خان کے پاکستان میں موجود اہلِ خانہ سے رابطے میں ہیں تاہم ان کا کوئی فرد یورپ میں موجود نہیں اور ابھی یہ واضح نہیں کہ کوئی آ سکے گا یا نہیں۔

کہاجارہاہے کہ وسیم خان کی باقیات وطن بھجوانے کا کوئی انتظام کیا گیاہے یانہیں، پاکستانی سفارت خانہ اب تک اس حوالے سے خاموش ہے۔اٹلی میں پاکستانی تنظیمو ں سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ بھی اس کے لیے کوشش کریں۔

پاکستانی کمیونٹی نے پاکستان کی وزارت خارجہ سے مطالبہ کیا ہے کہ مرحوم پاکستانی کے عزیزوں کو اٹلی بھجوانے کا انتظام کیا جائے۔