امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے معاہدے میں کیا ہے؟
امریکہ اور علاقائی شراکت دار کم از کم 300 ارب ڈالر کا ایک فنڈ قائم کریں گے جو ایران کی تعمیر نو اور معاشی ترقی کے لیے ہوگا، صحافیوں کو بریفنگ
فوٹو سوشل میڈیا
جنیوا : جی سیون اجلاس کے موقع پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی گفتگو کے دوران اعلیٰ امریکی حکام نے صحافیوں کو ایران کے ساتھ ہونے والے معاہدے پر بریفنگ دی ہے۔
لبنان سمیت تمام محاذوں پر جنگ بندی: معاہدے میں ’تمام محاذوں بشمول لبنان فوری اور مستقل فوجی کارروائیوں کے خاتمے‘ کا اعلان کیا گیا ہے۔
60 دن میں حتمی معاہدہ: امریکہ اور ایران اس بات پر متفق ہیں کہ وہ زیادہ سے زیادہ 60 دن کے اندر حتمی معاہدے پر مذاکرات مکمل کریں گے، جس میں باہمی رضامندی سے توسیع بھی ممکن ہوگی۔
امریکی بحری ناکہ بندی کا خاتمہ: امریکہ 30 دن کے اندر ایران پر عائد اپنی بحری ناکہ بندی ختم کرے گا۔ اس دوران بحری آمدورفت کو جنگ سے قبل کی سطح کے مطابق بحال کیا جائے گا۔ مزید یہ کہ حتمی معاہدے کے 30 دن کے اندر امریکہ ایران کے اطراف سے اپنی افواج کے انخلا کا بھی پابند ہوگا۔
آبنائے ہرمز کی بحالی: اہم آبی گزرگاہ آبنائے ہرمز 60 دن تک بغیر ٹول کے کھلی رہے گی، جس کے بعد ایران خلیجی ممالک، خصوصاً عمان کے ساتھ مل کر اس پر طویل المدتی معاہدہ کرے گا۔
ترقیاتی فنڈ: امریکہ اور علاقائی شراکت دار کم از کم 300 ارب ڈالر کا ایک فنڈ قائم کریں گے جو ایران کی تعمیر نو اور معاشی ترقی کے لیے ہوگا۔
تمام پابندیاں ختم: امریکہ اس بات کا پابند ہوگا کہ ایران پر عائد تمام اقسام کی پابندیاں ختم کی جائیں، جس کا شیڈول بعد میں طے کیا جائے گا۔
جوہری ہتھیاروں کی ممانعت: دونوں ممالک اس بات پر متفق ہیں کہ ایران کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرے گا اور ایران اپنے افزودہ جوہری مواد کو بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کی نگرانی میں ’موقع پر غیر مؤثر‘ کرنے پر آمادہ ہوگا۔