بھارتی بارڈر فورس کے دو اہلکاروں کو 42،42 سال قید کی سزا
فیصلے کے بعد دونوں اہلکاروں کو نوکری سے برطرف کرنے کا عمل بھی شروع کیا جا رہا ہے۔
بھارت کی ریاست میزورم میں 2017 کے دوران ایک خاتون کے ساتھ اجتماعی زیادتی اور اس پر تیزاب پھینکنے کے سنگین کیس میں بارڈر سیکیورٹی فورس (بی ایس ایف) کے دو سابق اہلکاروں کو مجموعی طور پر 42،42 سال قیدِ مشقت کی سزا سنا دی گئی ہے۔
عدالت کے مطابق دونوں مجرموں کو اضافی طور پر جرمانے کی سزا بھی دی گئی ہے، جبکہ عدم ادائیگی کی صورت میں مزید قید کا سامنا کرنا ہوگا۔
یہ فیصلہ ضلع آئزول کی ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز عدالت نے سنایا، جہاں ملزمان نلنجن داس اور دنیش کمار کو پہلے 12 جون کو مختلف دفعات کے تحت مجرم قرار دیا گیا تھا، جبکہ سزا کا اعلان منگل کے روز کیا گیا۔
عدالتی فیصلے کے مطابق دونوں اہلکاروں کو اجتماعی زیادتی کے جرم میں 20 سال قید، زیادتی کے نتیجے میں شدید جسمانی نقصان پہنچانے پر 10 سال قید، جبکہ تیزاب حملے کے جرم میں 12 سال قید کی سزا دی گئی ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ یہ تمام سزائیں ایک ساتھ نہیں بلکہ مسلسل (یکے بعد دیگرے) کاٹی جائیں گی، جس کے باعث مجموعی سزا 42 سال بنتی ہے۔
مزید بتایا گیا ہے کہ عدالت نے دونوں مجرموں پر 60 ہزار بھارتی روپے جرمانہ بھی عائد کیا ہے، عدم ادائیگی کی صورت میں ہر جرم پر اضافی قید بھگتنا ہوگی۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ واقعہ 16 جولائی 2017 کو ضلع مامت کے علاقے میں پیش آیا تھا، جہاں متاثرہ خاتون کو اجتماعی زیادتی کے بعد تیزاب سے حملے کا نشانہ بنایا گیا تھا۔
سیکیورٹی فورسز کے ذرائع کے مطابق فیصلے کے بعد دونوں اہلکاروں کو نوکری سے برطرف کرنے کا عمل بھی شروع کیا جا رہا ہے۔