افغان طالبان نے اسمارٹ فونز پر پابندی لگادی-توڑنا شروع کردئیے
جنرل مجاہدین ہوں یا سروس اسٹاف" کسی کو بھی اسمارٹ فون استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہوگی
افغانستان میں طالبان انتظامیہ نے حکومتی اہلکاروں کے لیے اسمارٹ فون کے استعمال پر سخت پابندی عائد کر دی ہے، جس کے بارے میں تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ اقدام بعد میں عام شہریوں تک بھی بڑھایا جا سکتا ہے۔
بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق طالبان کی فوجی عدالتوں کی جانب سے جاری کردہ ایک ہدایت میں کہا گیا ہے کہ “اعلیٰ عہدہ ہو یا ادنیٰ، جنرل مجاہدین ہوں یا سروس اسٹاف” کسی کو بھی اسمارٹ فون استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ پابندی کا اطلاق فوری طور پر کیا گیا ہے۔
حکم نامے میں واضح کیا گیا ہے کہ خلاف ورزی کی صورت میں موبائل فون ضبط کر کے توڑ دیا جائے گا جبکہ خلاف ورزی کرنے والوں کو قانونی اور شرعی سزا کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ کسی بھی استثنیٰ کے لیے طالبان کے سپریم لیڈر ہیبت اللہ اخوندزادہ کی تحریری اجازت ضروری قرار دی گئی ہے۔
سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ویڈیوز میں طالبان اہلکاروں کو پابندی کا اعلان کرتے ہوئے اور بعض مواقع پر موبائل فون توڑتے ہوئے بھی دیکھا جا سکتا ہے۔
افغانستان کے اندر موجود مختلف ذرائع کے مطابق یہ پابندیاں مختلف علاقوں میں مختلف انداز سے نافذ کی جا رہی ہیں، جہاں بعض مقامات پر صرف سرکاری اہلکاروں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے جبکہ کچھ جگہوں پر اس کا دائرہ عام شہریوں، خواتین، اساتذہ اور طلبہ تک بھی بڑھنے کی اطلاعات ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ اقدام ممکنہ طور پر مکمل ڈیجیٹل کنٹرول کی جانب پیش رفت ہو سکتا ہے، جبکہ بعض کے مطابق اس کا مقصد سرکاری لیکس اور اندرونی معلومات کے پھیلاؤ کو روکنا بھی ہے۔
رپورٹس میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اس سے قبل انٹرنیٹ سروسز میں عارضی بندش اور دیگر ڈیجیٹل پابندیاں بھی نافذ کی جا چکی ہیں، جس کے باعث ملک میں کاروباری سرگرمیوں اور ہنگامی خدمات پر بھی اثر پڑا تھا۔
ماہرین کے مطابق حالیہ فیصلہ افغانستان میں ڈیجیٹل آزادی اور حکومتی کنٹرول کے حوالے سے ایک نئے مرحلے کی نشاندہی کرتا ہے، جس کے خطے پر وسیع اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔