ٹرمپ نے مودی کوکلر قرار دے دیا

یہ ملاقات اس وقت ہوئی جب امریکہ اور بھارت کے تعلقات میں کچھ کشیدگی پائی جا رہی تھی

June 18, 2026 · بام دنیا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فرانس میں جی سیون اجلاس کے دوران بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی سے ملاقات کے دوران ان کے بارے میں دلچسپ اور غیر رسمی انداز میں رائے دیتے ہوئے کہا کہ مودی ایک “کلر” اور نہایت سخت مذاکرات کار ہیں، جو بظاہر نرم مزاج دکھائی دیتے ہیں لیکن سفارتی معاملات میں بہت مضبوط مؤقف رکھتے ہیں۔

یہ ملاقات اس وقت ہوئی جب امریکہ اور بھارت کے تعلقات میں کچھ کشیدگی پائی جا رہی تھی، خاص طور پر خلیج عمان میں پیش آنے والے ایک واقعے کے بعد جہاں امریکی کارروائی میں بھارتی شہریوں کی ہلاکت پر تنازع پیدا ہوا تھا۔

تقریباً 20 منٹ تک جاری رہنے والی اس غیر رسمی گفتگو سے قبل دونوں رہنماؤں کے درمیان وفود کی سطح پر بھی بات چیت ہوئی جس میں تجارت، دفاع، توانائی، ٹیکنالوجی اور علاقائی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

بعد ازاں میڈیا سے گفتگو میں نریندر مودی نے ملاقات کو مثبت قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک نے دوطرفہ تعاون میں پیش رفت اور مختلف شعبوں میں شراکت داری پر تفصیلی جائزہ لیا ہے۔

ملاقات کے دوران صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ امریکہ بھارت کے ساتھ دفاعی تعاون جاری رکھے گا اور اگر کسی صورتحال میں بھارت پر حملہ ہوا تو امریکہ اس کے ساتھ کھڑا ہوگا، تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ تعاون قیادت پر منحصر ہو سکتا ہے۔

اس ملاقات کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات میں بہتری کے اشارے دیکھے جا رہے ہیں، تاہم بعض سیاسی مبصرین اور اپوزیشن حلقوں نے اس پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتی شہریوں کے تحفظ سے متعلق معاملات کو بہتر انداز میں نہیں اٹھایا گیا۔

ماہرین کے مطابق یہ ملاقات دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتی ہے، تاہم عملی سطح پر اعتماد سازی کے مزید اقدامات کی ضرورت برقرار ہے۔