سعودی عرب کا فلسطینی ریاست کے قیام اور غزہ میں فوری جنگ بندی کا مطالبہ

فلسطین کا مسئلہ مشرقِ وسطیٰ کے تنازع کا مرکزی نکتہ ہے اور اس کے حل کے بغیر خطے میں پائیدار امن ممکن نہیں۔

June 20, 2026 · بام دنیا

اقوامِ متحدہ میں سعودی عرب کی جانب سے فلسطینی ریاست کے قیام کے حق میں واضح اور دوٹوک موقف سامنے آیا ہے، جس میں خطے میں دیرپا امن کے لیے دو ریاستی حل کو ناگزیر قرار دیا گیا ہے۔

سعودی عرب کے اقوامِ متحدہ میں مستقل مندوب عبدالعزیز الواصل نے اپنے خطاب میں کہا کہ فلسطین کا مسئلہ مشرقِ وسطیٰ کے تنازع کا مرکزی نکتہ ہے اور اس کے حل کے بغیر خطے میں پائیدار امن ممکن نہیں۔

انہوں نے زور دیا کہ مشرقی یروشلم کو دارالحکومت بناتے ہوئے ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کا قیام ضروری ہے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے فلسطینی علاقوں میں جاری آبادکاری، زمینوں پر قبضے اور جبری بے دخلی کے اقدامات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ تمام کارروائیاں بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔

اقوام متحدہ میں سعودی مندوب نے مطالبہ کیا کہ غزہ میں فوری اور مستقل جنگ بندی عمل میں لائی جائے تاکہ انسانی جانوں کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے اور متاثرہ آبادی تک امداد کی بلا رکاوٹ فراہمی ممکن ہو۔

انہوں نے مزید کہا کہ انسانی امداد کو کسی بھی سیاسی دباؤ یا مفادات کے حصول کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔ ساتھ ہی انہوں نے سلامتی کونسل پر زور دیا کہ وہ اپنی منظور شدہ قراردادوں پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنائے، کیونکہ فلسطینی عوام کے حقوق پر کوئی سمجھوتہ قبول نہیں کیا جا سکتا۔