ایران کیخلاف زمینی کارروائی کیلئے 10 لاکھ فوجیوں کی ضرورت پڑ سکتی ہے:ٹرمپ مشیر

ایران کے ساتھ تنازع کسی بھی بڑے زمینی فوجی آپریشن کی صورت میں انتہائی بھاری اور پیچیدہ شکل اختیار کر سکتا ہے۔

June 21, 2026 · بام دنیا

واشنگٹن ۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مشیر ڈیوڈ سیکس نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ تنازع کسی بھی بڑے زمینی فوجی آپریشن کی صورت میں انتہائی بھاری اور پیچیدہ شکل اختیار کر سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایران میں ممکنہ زمینی کارروائی کے لیے تقریباً 10 لاکھ فوجیوں کی ضرورت پڑ سکتی ہے، جو نہ صرف ایک انتہائی مہنگا فوجی اقدام ہوگا بلکہ اس کے خطرناک نتائج بھی سامنے آ سکتے ہیں۔

ڈیوڈ سیکس کے مطابق اس نوعیت کی فوجی مداخلت کو “خودکشی کے مترادف” قرار دیا جا سکتا ہے، کیونکہ یہ طویل اور خونریز تنازع میں تبدیل ہو سکتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے مسئلے کا حل فوجی طاقت نہیں بلکہ سفارتکاری اور مذاکرات ہیں، جو خطے میں پائیدار امن قائم کرنے کا بہترین راستہ ہیں۔

امریکی مشیر نے ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ مفاہمتی یادداشت کو ایک اہم سفارتی پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ بات چیت ہی تنازعات کے خاتمے کا مؤثر ذریعہ ہے۔