ایران کے خلاف ٹرمپ کی دھمکیوں کامقصد دباؤ برقرار رکھنا ہے۔سابق امریکی سفارتکار

امریکی سفارتکار نے مفاہمتی یادداشت کو حد سے زیادہ امید پر مبنی قرار دے دیا۔

June 22, 2026 · بام دنیا

فائل فوٹو

سابق اعلیٰ امریکی سفارتکار اور تیونس میں امریکہ کے سابق سفیر جوی ہڈ کا کہنا ہے کہ ایران کو سخت کارروائی کی دھمکیاں دینا دراصل مذاکراتی عمل میں اپنا اثر و رسوخ برقرار رکھنے کی کوشش ہے۔

جوی ہڈ نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف سخت اقدامات کی دھمکیاں اس لیے دی جا رہی ہیں تاکہ مفاہمتی یادداشت (MoU) میں بظاہر کافی کچھ دینے کے بعد امریکا کچھ حد تک اپنا دباؤ برقرار رکھ سکے۔

انہوں نے کہا کہ ان کے خیال میں یہ مفاہمتی یادداشت “بلاوجہ بہت زیادہ امید پر مبنی” دکھائی دیتی ہے۔

جوی ہڈ نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ مذاکرات میں لبنان یا اسرائیل کی حکومت کو شامل نہیں کیا گیا، جبکہ اب ان دونوں ممالک سے حزب اللہ اور اسرائیلی فوج کے درمیان جنگ بندی پر عملدرآمد کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس طرح ایران کو لبنان پر ایسا اثر و رسوخ حاصل ہو جاتا ہے جس کا وہ حقدار نہیں، کیونکہ ایران کئی برسوں سے وہاں عدم استحکام کا باعث رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ مفاہمتی یادداشت سے ایسا لگتا ہے کہ ایران کے علاقائی کردار، بشمول اس کے اتحادی گروہوں، کو تسلیم کیا جا رہا ہے، لیکن دوسری جانب ٹرمپ اپنے بیانات میں واضح کر رہے ہیں کہ امریکا اس بات کو قبول نہیں کرتا۔

جوی ہڈ نے مزید کہا کہ بظاہر یہ طریقہ ایران کو مذاکرات کی میز پر لانے کی کوشش ہے، لیکن ساتھ ہی امریکا اپنا دباؤ اور اثر و رسوخ بھی برقرار رکھنا چاہتا ہے۔