اسرائیل نے رام اللہ جانے والے یونانی مزدور رہنماؤں کے وفد کو ملک بدر کردیا
فلسطینی حکام کے مطابق وفد کے ارکان سے پوچھ گچھ اور کئی گھنٹے حراست میں رکھاگیا۔
یونان اور فلسطینی حکام نے اسرائیل کے اس فیصلے کی مذمت کی ہے جس کے تحت مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر رام اللہ جانے والے یونانی ٹریڈ یونین نمائندوں کے وفد کو داخلے کی اجازت دینے سے انکار کرتے ہوئے ملک بدر کردیا گیا۔
یونان کی وزارت خارجہ نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی حکام نے ان یونانی شہریوں کو داخلے سے روک کر واپس بھیج دیا، جنہیں فلسطینی جنرل فیڈریشن آف ٹریڈ یونینز نے یکجہتی کے دورے کے لیے مدعو کیا تھا۔
ایتھنز کا کہنا ہے کہ وفد کے ارکان نے اسرائیل میں داخلے کی تمام شرائط پوری کی تھیں اور پہنچنے پر اپنے دورے کا مقصد بھی اسرائیلی حکام کو بتا دیا تھا۔
فلسطینی وزارت خارجہ نے اس اقدام کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے “من مانی اور غیرقانونی کارروائی” قرار دیا، جو بین الاقوامی قوانین اور ٹریڈ یونین کی آزادیوں کی خلاف ورزی ہے۔
وزارت کے مطابق وفد کے ارکان سے پوچھ گچھ کی گئی، انہیں کئی گھنٹوں تک حراست میں رکھا گیا اور بعد ازاں ملک بدر کر دیا گیا۔
فلسطینی وزارت خارجہ نے اسرائیل پر الزام عائد کیا کہ وہ بین الاقوامی وفود کو مقبوضہ علاقوں کی زمینی صورتحال کا مشاہدہ کرنے سے روکنا چاہتا ہے، اور یہ اقدام فلسطینیوں کو عالمی برادری سے الگ تھلگ کرنے کی وسیع تر کوششوں کا حصہ ہے۔