آبنائے ہرمز کی بندش کے بعد بحری آمدورفت میں نمایاں کمی
ایران کے اعلان کے بعد جہازوں کی نقل و حرکت ایک تہائی تک محدود ہوگئی۔
بحری جہازوں کی نقل و حرکت سے متعلق اعداد و شمار کے مطابق، اسرائیل کے لبنان پر حملوں کے ردعمل میں ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو دوبارہ بند کرنے کے اعلان کے بعد اس اہم آبی گزرگاہ میں جہاز رانی کی سرگرمیاں نمایاں طور پر کم ہو گئی ہیں۔
بحری انٹیلی جنس کمپنی ونڈورڈ کے تجزیے کے مطابق اتوار کے روز صرف 12 بحری جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے، جبکہ اس سے ایک روز قبل یہ تعداد 35 تھی۔
ونڈورڈ کے مطابق آبنائے میں داخل ہونے والے آٹھ جہازوں میں سے پانچ نے اپنا آٹومیٹک آئیڈینٹیفیکیشن سسٹم (AIS) بند کر رکھا تھا، جس کے ذریعے جہازوں کی نقل و حرکت کی نگرانی کی جاتی ہے۔
کمپنی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ موجودہ بحری ٹریفک کا انداز غیر معمولی ہے، جہاں زیادہ تر نقل و حرکت ایسے جہازوں کی دکھائی دے رہی ہے جو اپنی شناخت ظاہر نہیں کر رہے یا ایران سے منسلک سمجھے جاتے ہیں۔
ونڈورڈ کے مطابق موجودہ صورتحال ایک فعال اور کھلی آبی گزرگاہ کے بجائے اس دور سے زیادہ مشابہت رکھتی ہے جب آبنائے ہرمز میں عملی طور پر ناکہ بندی جیسی کیفیت موجود تھی۔