خاتون ملازمہ کی زچگی کی چھٹیوں کےدوران برطرفی،نجی ادارے پر12 لاکھ جرمانہ

فوسپاہ نے برطرفی کو صنفی تفریق اور ہراسگی قرار دے دیا

June 22, 2026 · قومی

فائل فوٹو

اسلام آباد: وفاقی محتسب برائے انسدادِ ہراسیت نے خاتون ملازمہ کو زچگی کی چھٹیوں کے دوران نوکری سے نکالنے پر نجی ادارے پر 12 لاکھ روپے جرمانہ عائد کر دیا ہے۔

فوسپاہ کی سربراہ فوزیہ وقار کی جانب سے یہ فیصلہ سامنے آیا ہے، جس میں جرمانے کے ساتھ ادارے کو جامع اصلاحی اقدامات کے نفاذ کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔

فوسپاہ کے مطابق شکایت گزار ملازمہ اکاؤنٹنگ کے شعبے میں کام کر رہی تھی اور منظور شدہ زچگی کی چھٹی کے دوران ایک فون کال پر اس کی ملازمت ختم کر دی گئی۔

ادارے نے قرار دیا کہ زچگی کی چھٹیوں کے دوران برطرفی نقصان دہ سلوک ہے اور یہ عمل قانون کے تحت صنفی تفریق اور نفسیاتی ہراسگی کے برابر ہے۔

وفاقی محتسب نے کہا کہ حمل، پیدائش، میٹرنٹی لیو اور بعد ازاں صحت یابی کی حالت خواتین کے لیے منفرد ہیں۔
مزید یہ بھی ہدایت کی گئی کہ نجی ادارہ شکایت گزار خاتون کے خلاف کسی قسم کی انتقامی کارروائی نہ کرے۔