شہریوں کے نجی ڈیٹا پر مشتمل ٹرمپ حکومت کا ڈیٹا بیس غیرقانونی قرار
امریکہ میں شہری ڈیٹا بیس کے استعمال پر ٹرمپ انتظامیہ کو جھٹکا
امریکی وفاقی جج نےٹرمپ انتظامیہ کے اس ڈیٹا بیس کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے ختم کرنے کا حکم دیا جس میں امریکی شہریوں کی نجی معلومات محفوظ کی گئی تھیں۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق عدالت نے قرار دیا کہ متعدد ریاستوں نے اس ڈیٹا کی بنیاد پر غلطی سے ووٹ ڈالنے کے اہل شہریوں کے نام ووٹر فہرستوں سے خارج کر دیے تھے۔
امریکی ضلع عدالت برائے ڈسٹرکٹ آف کولمبیا کی جج اسپارکل سوکنانن نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ وفاقی حکومت نے جان بوجھ کر امریکی شہریوں کے رازداری کے حقوق کو پامال کیا، جس سے ووٹ کے بنیادی حق کو خطرہ لاحق ہوا۔
جج کے مطابق وفاقی اداروں نے انتخابات کے نظام میں تبدیلی سے متعلق صدارتی حکم نامے پر عمل درآمد کے دوران لاکھوں امریکیوں کی نجی معلومات کو جلد بازی میں یکجا کیا اور ان کا نیا استعمال شروع کیا، جن میں شہریت سے متعلق وہ معلومات بھی شامل تھیں جن کی درستگی پر خود حکام کو یقین نہیں تھا۔