لبنان میں ہزاروں خاندانوں کے پاس واپس جانے کیلئے گھر نہیں۔اقوام متحدہ
جنوبی لبنان میں حالیہ لڑائی کے دوران 11 ہزار سے زائد رہائشی عمارتیں مکمل تباہ ہوچکیں
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے ترجمان اسٹیفن دوجارک نے کہا ہے کہ ایک نئی جائزے کے مطابق جنوبی لبنان میں حالیہ لڑائی کے دوران 11 ہزار سے زائد رہائشی عمارتیں مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہیں۔ لبنان میں کئی خاندانوں کے پاس واپس جانے کے لیے گھر نہیں ہیں۔
انہوں نے نیویارک میں صحافیوں کو بتایا کہ مزید 2,200 عمارتوں کو جزوی نقصان پہنچا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بہت سے خاندانوں کے لیے اس کا مطلب یہ ہے کہ اب ان کے پاس واپس جانے کے لیے کوئی گھر باقی نہیں رہا۔ مسلسل غیر یقینی صورتحال، وسیع پیمانے پر تباہی، اور نہ پھٹے ہوئے دھماکہ خیز مواد کا خطرہ محفوظ اور پائیدار واپسی میں رکاوٹ بن رہا ہے۔
تاہم ان کے مطابق اس کے باوجود بہت سے لوگ جنوبی لبنان واپس جا رہے ہیں، اور ایک رات میں 19 ہزار افراد نے پناہ گاہیں چھوڑ دیں، جس کے بعد پناہ گاہوں میں رہنے والوں کی تعداد کم ہو کر تقریباً 90 ہزار رہ گئی ہے۔