فرانس میں ریکارڈ گرمی کے دوران بجلی کا بڑا بریک ڈاؤن

تقریباً 68 ہزار گھر بجلی سے محروم ہو گئے۔ حکام کے مطابق درجہ حرارت میں اضافے کے باعث بجلی کے نظام پر غیر معمولی دباؤ پڑا جس سے یہ خرابی پیش آئی۔

June 24, 2026 · بام دنیا

پیرس: یورپ کے مختلف ممالک ان دنوں شدید اور ریکارڈ توڑ گرمی کی لہر کی زد میں ہیں، جس کے باعث فرانس میں ہزاروں گھر بجلی سے محروم ہو گئے جبکہ کئی دیگر ممالک میں معمولات زندگی، ٹرانسپورٹ اور کاروباری سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں۔

بین الاقوامی میڈیا کے مطابق بدھ کے روز بھی یورپ کے بڑے حصوں میں غیر معمولی گرمی برقرار رہی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال ایک ایسے موسمی دباؤ کے نظام کے باعث پیدا ہوئی ہے جو گرم ہوا کو کئی دنوں تک ایک ہی خطے میں روکے رکھتا ہے۔ موسمیاتی تبدیلی نے اس کیفیت کو مزید شدید بنا دیا ہے۔

فرانس کے قومی موسمیاتی ادارے کے مطابق ملک میں منگل کے روز اوسط درجہ حرارت 29.8 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا، جو 1947 کے بعد سب سے زیادہ ریکارڈ کیا گیا درجہ حرارت ہے۔

شدید گرمی کے باعث شمال مغربی فرانس کے علاقے فینسٹر میں ٹرانسفارمر میں خرابی پیدا ہو گئی، جس کے نتیجے میں تقریباً 68 ہزار گھر بجلی سے محروم ہو گئے۔ حکام کے مطابق درجہ حرارت میں اضافے کے باعث بجلی کے نظام پر غیر معمولی دباؤ پڑا جس سے یہ خرابی پیش آئی۔

رپورٹس کے مطابق منگل کی رات تک ملک بھر میں ایک لاکھ سے زائد صارفین بجلی کی بندش سے متاثر ہوئے۔ بجلی کی بحالی کے لیے ہنگامی بنیادوں پر کام جاری ہے تاہم مکمل بحالی میں وقت لگنے کا امکان ہے۔

دوسری جانب گرمی کی شدت کے باعث فرانس میں پنکھوں اور ائیرکنڈیشنر کی طلب میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ بڑے اسٹورز اور آن لائن مارکیٹ پلیسز نے ان مصنوعات کی فروخت میں کئی گنا اضافہ رپورٹ کیا ہے۔

فرانس کے علاوہ اٹلی، برطانیہ، بیلجیم، نیدرلینڈز، اسپین، پولینڈ، ہنگری اور کروشیا بھی شدید گرمی کی لپیٹ میں ہیں۔ متعدد شہروں میں درجہ حرارت چالیس ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کرنے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔

برطانیہ میں اسکولوں اور ٹرانسپورٹ کے نظام میں گرمی کے باعث خصوصی انتظامات کیے جا رہے ہیں جبکہ بیلجیم کے معروف سیاحتی مقام ایٹومیئم نے گرمی کی شدت کے پیش نظر اپنے اوقات کار محدود کر دیے ہیں۔

ماہرین موسمیات کے مطابق موجودہ ہیٹ ویو انسانی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والی موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث مزید شدید ہو رہی ہے، اور اگر عالمی حدت میں اضافہ جاری رہا تو مستقبل میں اس طرح کے واقعات مزید عام ہو سکتے ہیں۔