جرمنی کا طالبان کو تسلیم کرنےاورتعلقات معمول پر لانے سے انکار
جرمنی اور افغانستان کے درمیان محدود رابطے قومی مفادات اور انتظامی ضروریات کے تحت کیے جا رہے ہیں،
جرمن چانسلر فریڈرک میرز نے ان خبروں کی تردید کی ہے جن میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ جرمن حکومت افغانستان میں طالبان کے ساتھ تعلقات معمول پر لا رہی ہے۔
جرمن پارلیمنٹ میں خطاب کے دوران انہوں نے واضح کیا کہ برلن طالبان حکومت کو تسلیم نہیں کرتا اور نہ ہی اس کے ساتھ کسی قسم کے سیاسی تعلقات قائم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
فریڈرک میرز کے مطابق افغانستان کے حکام کے ساتھ ہونے والے رابطے صرف تکنیکی نوعیت کے ہیں، جن کا مقصد جرمنی سے مجرم قرار دیے گئے افغان شہریوں کی ملک بدری کے عمل کو آسان بنانا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جرمنی اور افغانستان کے درمیان محدود رابطے قومی مفادات اور انتظامی ضروریات کے تحت کیے جا رہے ہیں، جبکہ کسی بھی طرح کا سیاسی تعلق قائم نہیں کیا جا رہا۔
جرمن چانسلر نے مزید بتایا کہ وزیر داخلہ افغان حکام کے نمائندوں کے ساتھ ملک بدری کے طریقہ کار پر بات چیت کر رہے ہیں اور ان کوششوں کو حکومت کی مکمل حمایت حاصل ہے۔
دوسری جانب جرمن وزارت خارجہ نے بھی حالیہ بیان میں کہا ہے کہ طالبان سے وابستہ مزید قونصلر اہلکاروں کی آمد متوقع ہے تاکہ دستاویزی امور اور قونصلر خدمات کو بہتر بنایا جا سکے۔
تاہم وزارت خارجہ نے واضح کیا ہے کہ یہ اقدامات طالبان حکومت کو تسلیم کرنے کے مترادف نہیں ہیں، بلکہ یہ صرف انتظامی اور تکنیکی ضروریات کے تحت کیے جا رہے ہیں۔