رشوت لینے کا الزام ،جنوبی کوریا کی سابق خاتونِ اول کو 7 سال قید کی سزا
تحفہ میں مہنگے زیورات، لگژری ہینڈ بیگ، قیمتی گھڑی، آرٹ ورک اور دیگر قیمتی تحائف شامل تھے۔
جنوبی کوریا کی ایک عدالت نے سابق خاتونِ اول کم کیون ہی کو رشوت کے طور پر قیمتی تحائف وصول کرنے اور اثر و رسوخ کے ناجائز استعمال کے جرم میں 7 سال قید اور جرمانے کی سزا سنا دی۔
عدالتی فیصلے کے مطابق کم کیون ہی نے اپنے شوہر کے دورِ صدارت میں سرکاری عہدوں، کاروباری سہولتوں اور دیگر مفادات کے حصول کے لیے مختلف افراد سے مہنگے تحائف وصول کیے۔ عدالت نے قرار دیا کہ عوامی منصب سے وابستہ شخصیت ہونے کے باوجود انہوں نے اپنی ذمہ داریوں کے برعکس ذاتی فائدے کے لیے اثر و رسوخ استعمال کیا۔
استغاثہ کے مطابق ملزمہ نے متعدد قیمتی اشیا بطور تحفہ وصول کیں، جن میں مہنگے زیورات، لگژری ہینڈ بیگ، قیمتی گھڑی، آرٹ ورک اور دیگر قیمتی تحائف شامل تھے۔ عدالت نے قرار دیا کہ اس طرزِ عمل سے عوام کا سرکاری اداروں اور تقرریوں کے نظام پر اعتماد متاثر ہوا۔
کم کیون ہی نے تمام الزامات مسترد کرتے ہوئے فیصلے کے خلاف اعلیٰ عدالت میں اپیل کرنے کا اعلان کیا ہے، جبکہ ان کے وکلا کا مؤقف ہے کہ عدالتی فیصلے میں شواہد کی غلط تشریح کی گئی۔
دوسری جانب سابق صدر یون سک یول بھی مختلف مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں۔ وہ پہلے ہی آئینی خلاف ورزی، اختیارات کے ناجائز استعمال اور دیگر الزامات میں سزا پا چکے ہیں، جس کے باعث جنوبی کوریا کی سیاسی تاریخ میں یہ ایک غیر معمولی عدالتی پیش رفت قرار دی جا رہی ہے۔