اسرائیل اور لبنان نے امریکی ثالثی میں فریم ورک معاہدے پر دستخط کر دیئے
ٹرمپ انتظامیہ کے لیے کسی حد تک ایک کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔
اسرائیل اور لبنان نے واشنگٹن میں امریکی ثالثی میں کئی روز تک جاری رہنے والے مذاکرات کے بعد ایک فریم ورک معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔
اس معاہدے کی تفصیلات ابھی واضح نہیں ہیں تاہم اسے ٹرمپ انتظامیہ کے لیے کسی حد تک ایک کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔ امریکہ خود بھی ایران کے ساتھ پیچیدہ مذاکرات میں مصروف ہے۔
ایران، جو حزب اللہ کا غیر ملکی حامی ہے، بارہا مطالبہ کر چکا ہے کہ لبنان کو امریکہ کے ساتھ ہونے والے کسی بھی مذاکرات کا حصہ بنایا جائے۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے جمعے کو کہا کہ یہ معاہدہ ’امن اور سلامتی کے لیے ایک فریم ورک قائم کرنے کا آغاز کرتا ہے۔‘ انھوں نے کہا کہ ’یہی وہ چیز ہے جس کے یہ دونوں ممالک مستحق ہیں‘۔ انھوں نے اسے ’پہلا قدم‘ قرار دیا۔
اس سے قبل اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان ہونے والی جنگ بندیوں کے دوران بھی تقریباً روزانہ سرحد پار حملے دیکھنے میں آئے۔ جبکہ دونوں فریق ایک دوسرے پر معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے رہے۔
واشنگٹن کو خدشہ رہا ہے کہ اسرائیل اور لبنان کے درمیان جاری کشیدگی ایران کے ساتھ امریکی امن معاہدے کو نقصان پہنچا سکتی ہے، جس میں لبنان سمیت ’تمام محاذوں‘ پر لڑائی ختم کرنے کا عزم شامل ہے۔