امریکہ ایران اختلافات بموں سے نہیں، سفارت کاری سے حل کریں۔این آئی اے سی
امریکی حملوں اور جہاز پر حملے پرتشویش،مفاہمتی یادداشت کے طریقۂ کار سے رجوع کرنے کی اپیل۔
فائل فوٹو
امریکہ میں قائم غیر منافع بخش لابنگ تنظیم نیشنل ایرانی امریکن کونسل (این آئی اے سی) نے آبنائے ہرمز میں جہاز پر حملے اور اس کے بعد ایران پر امریکی فضائی کارروائی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے دونوں ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ اختلافات کے حل کے لیے فوجی کارروائی کے بجائے سفارتی ذرائع اختیار کریں۔
این آئی اے سی نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان سفارتی عمل کا آغاز ہو چکا ہے، اس لیے تنازعات کے حل کے لیے بمباری نہیں بلکہ سفارتی رابطوں سے کام لیا جانا چاہیے۔
تنظیم نے تمام فریقوں پر زور دیا کہ وہ مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) میں طے شدہ انتظامی طریقۂ کار کو بروئے کار لاتے ہوئے معاہدے پر عمل درآمد کی نگرانی کریں۔ بیان میں خبردار کیا گیا کہ اگر اس معاہدے کو نقصان پہنچا یا یہ کمزور ہوا تو پورا معاہدہ خطرے میں پڑ سکتا ہے اور امریکا و ایران ایک بار پھر جنگ کی طرف جا سکتے ہیں۔