امریکی حملوں کا انجام پسپائی، پچھتاوا ہوگا۔ابراہیم عزیزی
امریکہ نے مذاکرات کے دوران ایران پر حملہ کیا، ایرانی رکن پارلیمنٹ کا سخت ردعمل
تہران: ایران کی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے کہا ہے کہ ایران پر حالیہ امریکی حملوں سے ثابت ہو گیا کہ واشنگٹن مذاکرات اور جنگ بندی کے اصولوں پر عمل کرنے میں سنجیدہ نہیں، اور ان کارروائیوں کا انجام امریکہ کے لیے “پسپائی اور پچھتاوا” ہوگا۔
ابراہیم عزیزی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ امریکا نے ایک بار پھر مذاکرات کے دوران ایران کو نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ نہ تو مذاکرات کے اصولوں کے پابند ہیں اور نہ ہی جنگ بندی کے تقاضوں کا احترام کرتے ہیں۔
انہوں نے امریکی کارروائی کو جنگ بندی کی “غیر ذمہ دارانہ خلاف ورزی” قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کے نتائج ہمیشہ کی طرح امریکا کے لیے پسپائی اور ندامت کا باعث بنیں گے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ “الزام تراشی کا کھیل اب مزید نہیں چلے گا۔”
ابراہیم عزیزی کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چند گھنٹے قبل ایران کی پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) نے اعلان کیا تھا کہ اس کی بحری فورس نے جنوبی ایران پر امریکی حملوں کے جواب میں خطے میں امریکی فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے۔