ڈنمارک اسلام آبادبن گیا،ڈینش وزیر نے اذان پر پابندی لگانےکا اعلان کردیا
امیگریشن وزیر کے بیان سے مسلم کمیونٹی اور پالیسی پر نئی بحث
ڈنمارک حکومت نے ملک میں اذان دینے پر پابندی لگانے کا اعلان کر دیا ہے، جس کے بعد ملک میں سیاسی اور سماجی سطح پر نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔امیگریشن وزیر نے دعویٰ کیا کہ ملک کے کچھ حصوں میں ایسا لگتا ہے جیسے “اسلام آباد کا مضافاتی علاقہ” ہو۔
سینٹر-لیفٹ سوشل ڈیموکریٹس پارٹی کے رکن مارٹن بڈسکوف نے کہا کہ نئی حکومت اذان پر پابندی کی قانونی حیثیت کی تفتیش دوبارہ شروع کرے گی۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ڈنمارک میں “اسلامی اثر آہستہ آہستہ بڑھ رہا ہے اور یہ معاشرے کا بہت زیادہ حصہ لے رہا ہے”۔
وزیر نے مزید کہا کہ ڈنمارک کی چھتوں پر اذان سنائی نہیں دینی چاہیے اور یہ ڈنمارک میں جگہ نہیں رکھتی۔ ان کے مطابق جب کوئی ڈنمارک میں چلتا ہے تو اسے یہ شک نہیں ہونا چاہیے کہ وہ اسلام آباد کے مضافاتی علاقے میں پہنچ گیا ہے۔
کوپن ہیگن سمیت ملک کے کچھ حصوں میں پہلے سے مقامی قوانین موجود ہیں جن کے تحت میناروں سے لاؤڈ اسپیکر کے ذریعے اذان کی نشریات پر پابندی ہے، کیونکہ وہاں شور کی سخت حد بندی نافذ ہے۔
یہ تیسری بار ہے جب ڈنمارک کے امیگریشن وزیر نے اذان پر پابندی کے لیے قانونی فریم ورک بنانے کی کوشش کی ہے۔ اس سے قبل 2020 اور 2025 میں بھی اسی نوعیت کی کوششیں کی جا چکی ہیں۔
وزیراعظم میٹے فریڈرکسن کے دور میں ڈنمارک نے یورپ کے سخت ترین امیگریشن قوانین نافذ کیے ہیں، اور انہوں نے اس ماہ اپنا تیسرا دور شروع کیا ہے۔
ان قوانین کے تحت حکومت تارکین وطن کو ان علاقوں سے منتقل ہونے پر مجبور کر سکتی ہے جہاں غیر ملکی رہائشیوں کی تعداد زیادہ ہو، جبکہ بعض صورتوں میں پناہ گزینوں کو اپنے زیورات اور قیمتی اشیاء حکومت کے حوالے کرنا پڑتی ہیں تاکہ رہائش کے اخراجات پورے کیے جا سکیں، اور اگر ان کا دعویٰ مسترد ہو جائے تو انہیں کوئی مالی امداد نہیں ملتی۔