اسرائیل کو لبنان میں فوجی کارروائیوں سے فوری طور پر روکا جائے: ایران
لبنان کے مقبوضہ علاقوں سے اسرائیلی افواج کے غیر مشروط انخلا کے لیے فوری طور پر ایک واضح ’ٹائم ٹیبل‘ یا وقت طے کیا جائے، ایرانی وزارت خارجہ
فائل فوٹو
بغداد: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ’امریکہ کے ساتھ طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کے تحت اسرائیل کا لبنان سے انخلا اور اس کی فوجی کارروائیوں کا خاتمہ لازمی ہے۔‘
عراقی دارالحکومت بغداد کے سرکاری دورے کے دوران انھوں نے اس مؤقف پر زور دیا کہ خطے میں کسی بھی معاہدے کی کامیابی کے لیے یہ اقدامات بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔
واضح رہے کہ اس سے قبل ایرانی خبر رساں اداروں مہر نیوز اور ارنا کی جانب سے ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان کے حوالے سے بتایا گیا تھا کہ اسماعیل بقائی نے بھی اسی حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’امریکہ کو تمام ضروری اقدامات کرنے چاہییں تاکہ اسرائیل لبنان میں اپنی فوجی کارروائیاں بند کرے۔
ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے مطالبہ کیا ہے کہ لبنان کے مقبوضہ علاقوں سے اسرائیلی افواج کے غیر مشروط انخلا کے لیے فوری طور پر ایک واضح ’ٹائم ٹیبل‘ یا وقت طے کیا جائے۔
اتوار کے روز صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اسماعیل بقائی نے کہا تھا کہ اسلامی جمہوریہ ایران اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کے مطابق اپنی اصولی پالیسیوں کے تحت لبنان کی قومی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور تمام لبنانی شہریوں کے وقار و سلامتی کے تحفظ کی اہمیت پر زور دیتا ہے۔
اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کا حوالہ دیتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ ’ایران کا ایک بنیادی مطالبہ اسرائیلی کارروائیوں کا لبنان میں خاتمہ اور ایران کے خلاف جاری جنگ کا بھی اختتام ہے، جس پر ایران مسلسل زور دیتا رہا ہے۔
انھوں نے کہا کہ مفاہمتی یادداشت کی پہلی شق پر مکمل عمل درآمد، یعنی لبنان کے خلاف اسرائیلی حملوں کا خاتمہ اور تمام مقبوضہ لبنانی علاقوں سے افواج کا انخلا، خطے میں پائیدار استحکام کے لیے ضروری شرط ہے۔
قبل ازیں ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اتوار کے روز بغداد میں عراقی وزیراعظم علی الزیدی سے ملاقات کی جس میں دوطرفہ تعلقات کے فروغ اور خطے میں امن و استحکام کے لیے علاقائی اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
عراقی وزیراعظم کے دفتر کی جانب سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق علی الزیدی نے خطے میں جنگ کے خاتمے کے لیے جاری سفارتی عمل کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ عراق جنگوں کے خاتمے اور مذاکرات کے ذریعے علاقائی استحکام کو ترجیح دینے کی حمایت کرتا ہے۔
ایرانی خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق مذاکرات کے دوران ایران اور امریکہ کے درمیان حالیہ معاہدے پر بھی بات چیت کی گئی، جس کے تحت دونوں ممالک کے درمیان جنگ کے خاتمے کی راہ ہموار ہوئی۔ اس کے علاوہ علاقائی و بین الاقوامی کوششوں پر بھی غور کیا گیا جن کا مقصد سلامتی کو فروغ دینا، قومی خودمختاری کا احترام اور ریاستوں کے اتحاد و علاقائی سالمیت کو برقرار رکھنا ہے۔
عباس عراقچی نے اس موقع پر عراق کے لیے ایران کی حمایت کا اعادہ کیا اور دوطرفہ تعلقات اور تعاون کو مزید وسعت دینے کے لیے مسلسل رابطے اور مشترکہ کوششوں کی اہمیت پر زور دیا۔