اسلام قبول کرنے کے بعد آیوش ملک نے دوبارہ ہندو مذہب اختیار کر لیا
اپنی مرضی سے مذہب تبدیل کیا اور شادی کا فیصلہ بھی اپنی آزادانہ خواہش سے کیا تھا۔
بھارت کی ریاست اتر پردیش کے ضلع شاملی سے تعلق رکھنے والے آیوش ملک ایک بار پھر خبروں کی زینت بن گئے ہیں۔ اسلام قبول کرنے کے چند برس بعد انہوں نے دوبارہ ہندو مذہب اختیار کرنے کا اعلان کیا ہے، جبکہ اس سے متعلق قانونی کارروائی اب بھی جاری ہے۔
اطلاعات کے مطابق آیوش ملک کی ملاقات 2018 میں ایک اسپتال میں فزیو تھراپسٹ چاندنی قریشی سے ہوئی، جہاں دونوں کے درمیان تعلقات قائم ہوئے۔ بعد ازاں 2023 میں آیوش نے اسلام قبول کیا، اپنا نام محمد علی رکھا اور دونوں نے نکاح کیا۔ تاہم تفتیشی حکام کے مطابق نکاح سے متعلق سرکاری دستاویزات تاحال سامنے نہیں آ سکیں۔
اسلام قبول کرنے کے بعد آیوش ملک متعدد مواقع پر یہ مؤقف اختیار کرتے رہے کہ انہوں نے اپنی مرضی سے مذہب تبدیل کیا اور شادی کا فیصلہ بھی اپنی آزادانہ خواہش سے کیا تھا۔
بعد ازاں آیوش کے والد نے پولیس کو درخواست دیتے ہوئے الزام عائد کیا کہ ان کے بیٹے کو مبینہ طور پر مذہب تبدیل کرنے پر آمادہ کیا گیا اور اس کے پیچھے مالی مفادات کارفرما تھے۔ شکایت کے بعد اتر پردیش پولیس نے ریاست کے متعلقہ قانون کے تحت مقدمہ درج کیا اور تحقیقات کا آغاز کیا، جو اب بھی جاری ہیں۔
حالیہ دنوں سامنے آنے والی ایک ویڈیو میں آیوش ملک ہندو مذہبی رسومات ادا کرتے دکھائی دیے۔ ویڈیو میں انہوں نے کہا کہ انہوں نے اپنے خاندان کی خواہشات اور حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی مرضی سے دوبارہ سناتن دھرم اختیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اب وہ اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں۔
آیوش کے والد نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ان کے بیٹے نے دوبارہ ہندو مذہب اختیار کر لیا ہے۔
تاہم اس معاملے سے متعلق درج مقدمہ اب بھی زیرِ تفتیش ہے، جبکہ مذہب کی تبدیلی یا کسی بھی مبینہ دباؤ سے متعلق الزامات پر تاحال عدالت کی جانب سے کوئی حتمی فیصلہ سامنے نہیں آیا۔