معاہدے پر عملدرآمد میں تاخیر۔ ایرانی اعلیٰ حکام دوحہ جانے سے گریزاں
امریکہ سے معاہدے پر ایرانی قیادت میں شکوک بڑھنے لگے۔ ماہر کا دعویٰ
فائل فوٹو
مشرقِ وسطیٰ کے امور کے ماہر اور مڈل ایسٹ انسٹی ٹیوٹ کے سینئر فیلو الیکس وتانکا کا کہنا ہے کہ امریکہ کے ساتھ طے پانے والے مفاہمتی معاہدے (MoU) پر عملدرآمد میں تاخیر کے باعث ایرانی قیادت میں بڑھتے ہوئے شکوک اس بات کی وضاحت کرتے ہیں کہ ایران کے اعلیٰ حکام دوحہ میں موجود نہیں۔
انہوں نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ تقریباً دو ہفتوں کے دوران ایرانی حکومت کے اندر اس معاہدے پر تنقید میں اضافہ ہوا ہے۔ حکومتی حلقوں میں سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ معاہدہ کاغذ پر تو متاثر کن دکھائی دیتا ہے، لیکن اس پر عملی پیش رفت کہاں ہے؟
وتانکا کے مطابق ایران میں یہ سوالات بھی کیے جا رہے ہیں کہ منجمد ایرانی اثاثے کب جاری ہوں گے؟ آبنائے ہرمز پر ایران کا کنٹرول کہاں ہے؟ اور اسرائیل اب بھی لبنان میں کیوں موجود ہے؟
انہوں نے مزید کہا کہ تہران کے بعض حلقوں کا خیال ہے کہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف ایسی ٹرمپ انتظامیہ سے مذاکرات کر رہے ہیں جو بظاہر ایران کے مطالبات ماننے کا تاثر دے سکتی ہے، لیکن عملی طور پر انہیں پورا نہ کرے۔