مقبوضہ بیت المقدس میں زمین اسرائیل نے صرف1ڈالر میں امریکہ کو دیدی
مذکورہ زمین 1948ء سے قبل فلسطینی خاندانوں کی ملکیت تھی۔اسرائیل نے 1950ء میں قبضہ کر لیا
غیرملکی میڈیا کے مطابق اسرائیل نے مقبوضہ بیت المقدس میں مستقل امریکی سفارت خانے کی تعمیر کے لیے فلسطینیوں کی ملکیتی اراضی 99 سال کی لیز پر محض ایک ڈالر کے عوض امریکا کو فراہم کر دی ہے۔
اسرائیلی انسانی حقوق کی تنظیم عدالہ کا کہنا ہے کہ مذکورہ زمین 1948ء سے قبل فلسطینی خاندانوں کی ملکیت تھی، تاہم اسرائیل نے 1950ء میں اس پر قبضہ کر لیا تھا۔
رپورٹس کے مطابق اس اراضی کو اب مستقل امریکی سفارت خانے کی تعمیر کے لیے مختص کیا گیا ہے، جس پر انسانی حقوق کے حلقوں کی جانب سے اعتراضات سامنے آ رہے ہیں۔
واضح رہے کہ اقوام متحدہ مشرقی بیت المقدس کو مقبوضہ فلسطینی علاقہ قرار دیتی ہے اور اس کی قانونی حیثیت بین الاقوامی سطح پر متنازع سمجھی جاتی ہے۔