اسرائیلی حملوں کے خدشے کے پیش نظر امکان ہے مجتبیٰ خامنہ ای شرکت نہیں کریں گے

اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے انہیں واضح طور پر ہدف قرار دیا ہے۔

July 3, 2026 · بام دنیا

اسرائیلی حملوں کے شدید خدشات اور انٹیلی جنس الرٹس کے پیشِ نظر ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے اپنے والد آیت اللہ علی خامنہ ای کی جاری آخری رسومات میں عوامی سطح پر شرکت نہ کرنے کی اطلاعات ہیں۔

اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے انہیں واضح طور پر ہدف قرار دیا ہے۔

اسرائیلی انٹیلی جنس کی جانب سے مجتبیٰ خامنہ ای کو ہدف قرار دیے جانے کے بعد، ایرانی قیادت تہران کے محفوظ بنکروں سے معاملات چلا رہی ہے۔

فروری کے اواخر میں ہونے والے امریکی-اسرائیلی حملوں کی زد میں آکر ان کے زخمی ہونے کی اطلاعات بھی سامنے آئی تھیں، جس کے باعث ان کی عوامی شرکت مزید مشکل ہوگئی ہے۔

اس قبل ایرانی میڈیا کے مطابق ایران کے شہید سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی حسینی خامنہ ای کی نماز جنازہ کیلئے انتظامات کی تیاریاں جاری ہیں۔جنازے میں دو کروڑ افراد کی شرکت متوقع ہے۔

ایرانی میڈیا کے مطابق شہید سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی حسینی خامنہ ای کا جسد خاکی تہران کےجنوبی علاقے میں واقع امام خمینی حسینیہ منتقل کردیا گیا ہے۔آیت اللہ علی خامنہ ای کی نماز جنازہ تہران میں ادا کی جائے گی ۔ نماز جنازہ کے بعد جسد خاکی تہران سے قم پھرنجف اورکربلا لے جایا جائے گا۔پھر میت واپس ایران لا کر آیت اللہ علی خامنہ ای کو مشہد میں سپردِ خاک کیا جائے گا ،جلوس جنازہ میں دو کروڑ سے زائد افراد کی شرکت متوقع ہے۔
یہ ابھی واضح نہیں ہے کہ آیا نئے سپریم لیڈر ان تقریبات کے دوران عوام کے سامنے آئیں گے یا نہیں۔ خامنہ ای کے صاحبزادے جنگ کے بعد سے عوامی منظرنامے سے دور رہے ہیں اور بیانات کے ذریعے ہی رابطے میں رہے ہیں۔

صدر مسعود پزشکیان، پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف اور عدلیہ کے سربراہ غلام حسین سمیت اعلیٰ حکام نے ایرانی عوام سے ان تقریبات میں شرکت کی اپیل کی ہے۔

انتظامی کمیٹی کے سربراہ اور اول نائب صدر محمد رضا عارف نے بتایا کہ تہران صوبے میں چار اور پانچ جولائی کو عام تعطیل ہوگی، جبکہ چھ جولائی کو ملک بھر میں چھٹی ہوگی۔

تہران میں تقریبات کی نگرانی کرنے والے آئی آر جی سی کے سینئر کمانڈر، بریگیڈیئر جنرل حسن حسن زادہ نے کہا کہ حکام کو ایک کروڑ 20 لاکھ سے ایک کروڑ 50 لاکھ افراد کی شرکت کی توقع ہے اور یہ تعداد دو کروڑ تک بھی پہنچ سکتی ہے۔

حکام نے شدید گرمی اور ہجوم کے پیشِ نظر خبردار بھی کیا ہے اور لوگوں پر زور دیا ہے کہ وہ صحت اور حفاظت سے متعلق ہدایات پر عمل کریں۔

فوجی ترجمان بریگیڈیئر جنرل محمد اکرمینیا نے بتایا کہ سکیورٹی اور معاونت کی فراہمی کے لیے 10 ہزار سے زائد اہلکاروں اور 10 فوجی ہسپتالوں کو متحرک کیا گیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ تقریبات کے دوران ڈیڑھ لاکھ اہلکار الرٹ رہیں گے۔

ایران کی سول ایوی ایشن آرگنائزیشن نے اعلان کیا ہے کہ چھ جولائی کو تہران اور نو جولائی کو مشہد کی فضائی حدود بند رہیں گی۔