امریکہ ایران جنگ بندی کے مثبت اثرات۔ آبنائے ہرمز میں آمدورفت میں نمایاں اضافہ

امریک ایران جنگ بندی سے بحری تجارت بحال، آبنائے ہرمز میں ٹریفک میں تیزی

July 3, 2026 · بام دنیا

امریکہ اور ایران کے درمیان 60 روزہ جنگ بندی برقرار رہنے کے بعد آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کی آمدورفت میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ شپنگ کمپنیاں اب اس اہم بحری راستے کو پہلے کے مقابلے میں زیادہ محفوظ سمجھنے لگی ہیں۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق، بحری نگرانی کرنے والی کمپنی سگنل کے اعداد و شمار سے معلوم ہوتا ہے کہ یکم جولائی کو خلیج میں داخل ہونے اور باہر نکلنے والے قابلِ سراغ روزانہ بحری سفر کی اوسط تعداد گزشتہ سات دنوں کے حساب سے بڑھ کر 8 ہو گئی، جبکہ تنازع کے دوران یہ تعداد صرف 1 سے 2 کے درمیان تھی۔

رپورٹ کے مطابق اس اضافے سے ظاہر ہوتا ہے کہ جہاز مالکان کو اب یقین ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کو حملوں کا خطرہ پہلے کے مقابلے میں کم ہے۔

تاہم، بحری آمدورفت اب بھی جنگ سے پہلے کی سطح سے کم ہے۔

لائیڈز لسٹ انٹیلی جنس کے مطابق، 28 جون کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران خلیج میں داخل ہونے اور نکلنے والے جہازوں کی مجموعی تعداد، جن میں “ڈارک ووئیجز” (ایسے سفر جن میں جہاز اپنا ٹریکنگ سسٹم بند رکھتے ہیں) بھی شامل ہیں، 258 رہی، جبکہ مارچ میں بحران کے آغاز کے پہلے ہفتے میں یہ تعداد صرف 41 تھی۔

امریکا کی جانب سے ایران کے خلاف کارروائی شروع ہونے سے قبل دنیا بھر میں منتقل ہونے والے تیل اور گیس کا تقریباً 20 فیصد آبنائے ہرمز کے ذریعے گزرتا تھا، جہاں روزانہ اوسطاً 135 جہاز اس اہم بحری راستے سے سفر کرتے تھے۔