ایران نے امریکی غذائی امداد کی بات مسترد کردی۔ٹرمپ کو آڑے ہاتھوں لے لیا
کروڑوں امریکی خود فوڈ اسٹامپس پر انحصار کرتے ہیں۔اسپیکر باقر قالیباف
فائل فوٹو
ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس دعوے پر سخت ردعمل دیتے ہوئے اسے مسترد کر دیا ہے کہ مستقبل میں کسی بھی امن معاہدے کے تحت ایران امریکا سے زرعی اجناس خریدے گا۔
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر اور چیف مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں ٹرمپ کے ریمارکس کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ “یہ تصور ہی عجیب ہے کہ اپنے ہی ملک کے چار کروڑ سے زائد شہریوں کو فوڈ اسٹامپس فراہم کرنے والا شخص کسی دوسری قوم کو بھوکا قرار دے۔”
اس سے قبل امریکی نشریاتی ادارے سی این بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ ایران کو خوراک کی ضرورت ہے اور وہ مکئی، گندم اور سویا بین امریکہ سے خریدے گا، جبکہ یہ اجناس صرف امریکی کسان فراہم کریں گے۔
قالیباف نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ “یہ کوئی حقیقت نہیں بلکہ دوسروں پر اپنی صورتحال مسلط کرنے کی کوشش ہے۔ اپنی فوڈ اسٹامپ اسکیم کے مشورے اپنے پاس رکھیں۔ ہمارے وسائل اور فیصلے ہمارے اپنے ہیں، آپ بہتر ہے اپنے ملک میں غذائی قلت اور بھوک کے مسائل پر توجہ دیں۔”
امریکی محکمہ زراعت کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال امریکا میں 4 کروڑ 20 لاکھ سے زائد افراد سپلیمنٹل نیوٹریشن اسسٹنس پروگرام جسے عام طور پر فوڈ اسٹامپ پروگرام کہا جاتا ہے، سے مستفید ہوئے تھے۔