علی خامنہ ای کی آخری رسومات کا سرکاری آغاز۔لاکھوں سوگوار تہران پہنچ گئے

خامنہ ای کی تدفین نو جولائی کو مشہد میں امام رضا کے مزار پر کی جائےگی۔

July 4, 2026 · بام دنیا

ایران کے مرحوم سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی سرکاری الوداعی تقریبات کا آغاز تہران مصلیٰ اور اس سے ملحقہ سڑکوں پر ہو گیا ہے۔

ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق نماز و اجتماعات کے بڑے مرکز تہران مصلیٰ کے دروازے لاکھوں سوگواروں کی آمد کے پیشِ نظر کھول دیے گئے ہیں، جہاں عوام اپنے مرحوم رہنما کو آخری خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے بڑی تعداد میں جمع ہو رہے ہیں۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق دارالحکومت تہران میں لاکھوں افراد کی شرکت کے پیش نظر خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں تاکہ سوگوار باآسانی آخری رسومات میں شریک ہو سکیں۔
خامنہ ای کے علاوہ، ان کی صاحبزادی بشریٰ حسینی خامنہ ای، بہو زہرا حداد عادل (مجتبیٰ خامنہ ای کی اہلیہ)، داماد مصباح الہدیٰ باقری اور نواسی زہرا محمدی کے تابوت بھی سوگواروں کے سامنے رکھے گئے ہیں۔

چھ جولائی کو تہران میں جنازے کا جلوس کا شروع ہوگا، یہ جلوس مقامی وقت کے مطابق صبح چھ شروع ہوگا۔ منتظمین نے دارالحکومت میں پھیلے ہوئے ایک راستے کا انتخاب کیا ہے کیونکہ ان کا کہنا ہے کہ متوقع ہجوم کے لیے کوئی ایک سڑک کافی نہیں ہوگی۔ حکام کو امید ہے کہ یہ تقریب شام تک اختتام پذیر ہو جائے گی۔

سات جولائی کو قم میں جنازہ ادا کیا جائے گا۔یہ تقریب ایران کے مذہبی مرکز میں مقامی وقت کے مطابق صبح تقریباً پانچ بجے شروع ہو گی جس میں جمکران مسجد کے اندر ایک سینئر عالمِ دین نماز کی امامت کریں گے۔

عراق میں ایران کے ثقافتی اتاشی، غلام رضا اباذری نے بتایا کہ میت سات جولائی کی شام نجف پہنچے گی۔ میت کی ایران واپسی سے قبل، آٹھ جولائی کو نجف میں مقامی وقت کے مطابق صبح چھ بجے اور کربلا میں سہ پہر چار بجے جنازے کے جلوس نکالے جائیں گے۔

خامنہ ای کی تدفین نو جولائی شمال مشرقی شہر مشہد میں امام رضا کے مزار پر کی جائے گی۔