برطانیہ کا جنسی جرائم کے مجرم شبیر احمد کی ملک بدری کے لیے پاکستان سے رابطہ
73 سالہ شبیر احمد کو اپنی سزا مکمل ہونے کے بعد جیل سے رہا کر دیا گیا ہے، تاہم برطانوی حکومت انہیں پاکستان بھیجنے کے قانونی امکانات کا جائزہ لے رہی ہے
برطانیہ میں کم عمر لڑکیوں کے جنسی استحصال کے مقدمے میں سزا یافتہ شبیر احمد کی ممکنہ ملک بدری کے معاملے پر برطانوی حکومت نے پاکستان سے رابطہ کیا ہے۔
برطانوی میڈیا رپورٹس کے مطابق 73 سالہ شبیر احمد کو اپنی سزا مکمل ہونے کے بعد جیل سے رہا کر دیا گیا ہے، تاہم برطانوی حکومت انہیں پاکستان بھیجنے کے قانونی امکانات کا جائزہ لے رہی ہے۔ اس سلسلے میں اسلام آباد میں متعلقہ حکام سے بھی رابطہ کیا گیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق شبیر احمد کی برطانوی شہریت ماضی میں ختم کی جا چکی تھی، تاہم برطانیہ کے امیگریشن قوانین کی بعض شقیں ان کی فوری ملک بدری میں رکاوٹ بن رہی ہیں۔ اسی قانونی پیچیدگی کے باعث حکومت مختلف آئینی اور قانونی آپشنز پر غور کر رہی ہے۔
برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے بھی متعلقہ حکام کو معاملے کا جائزہ لینے کی ہدایت دی ہے، جبکہ حکومتی ترجمان کا کہنا ہے کہ غیر ملکی مجرموں کی ملک بدری کے لیے ہر ممکن قانونی راستہ اختیار کیا جائے گا۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ ایسے معاملات میں متعلقہ ملک کی رضامندی بھی اہم قانونی تقاضا ہوتی ہے۔
برطانوی حکام کے مطابق شبیر احمد اس وقت رہائی کے بعد سخت نگرانی میں ہیں، انہیں الیکٹرانک ٹریکنگ ڈیوائس پہنائی گئی ہے اور اگر وہ عائد کردہ شرائط کی خلاف ورزی کرتے ہیں تو انہیں دوبارہ حراست میں لیا جا سکتا ہے۔
شبیر احمد کو 2012 میں کم عمر لڑکیوں کے جنسی استحصال اور ریپ سمیت متعدد سنگین جرائم میں سزا سنائی گئی تھی۔ بعد ازاں ان کی سزا کے خلاف دائر مختلف اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔ برطانوی حکام کا کہنا ہے کہ مقدمے سے متعلق آئندہ قانونی کارروائی قانون کے مطابق جاری رہے گی۔