آبنائے ہرمز میں فوجی موجودگی پر ایران کا برطانیہ اور فرانس کو سخت انتباہ

ایران اس اہم بحری راستے کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتا رہے گا۔

July 4, 2026 · بام دنیا

ایران نے آبنائے ہرمز میں ممکنہ غیر ملکی فوجی سرگرمیوں پر سخت ردِعمل دیتے ہوئے برطانیہ اور فرانس کو خبردار کیا ہے کہ اس حساس بحری گزرگاہ میں کسی بھی فوجی موجودگی کے سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔

ایرانی وزارتِ خارجہ کے مطابق آبنائے ہرمز کی سلامتی خطے کے ممالک کی مشترکہ ذمہ داری ہے اور اس علاقے میں بیرونی طاقتوں کی فوجی سرگرمی کشیدگی میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔

ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے اپنے بیان میں کہا کہ آبنائے ہرمز کو غیر علاقائی طاقتوں کے فوجی مظاہرے کا مرکز نہیں بنایا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران اس اہم بحری راستے کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتا رہے گا۔

یہ بیان برطانیہ اور فرانس کی جانب سے جاری مشترکہ مؤقف کے بعد سامنے آیا، جس میں دونوں ممالک نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کی محفوظ آمد و رفت کو یقینی بنانے کے لیے ضرورت پڑنے پر فوجی اقدامات کی تیاری کا اظہار کیا تھا۔

آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین بحری راستوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی تیل کی تجارت کا بڑا حصہ گزرتا ہے، اسی وجہ سے اس خطے کی سلامتی کو عالمی معیشت کے لیے بھی انتہائی اہم تصور کیا جاتا ہے۔