آیت اللہ علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ تہران میں ادا، لاکھوں افراد کی شرکت

صدر مسعود پزشکیان، اسپیکر محمد باقر قالیباف، اعلیٰ حکام، 100 سے زائد ممالک کے وفود شریک

July 5, 2026 · بام دنیا

ایران کے شہید سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای اور ان کے خاندان کے چار دیگر شہدا کی نمازِ جنازہ تہران میں عقیدت و احترام کے ساتھ ادا کر دی گئی،نمازجنازہ ایران کی ممتاز مذہبی شخصیت آیت اللہ جعفر سبحانی نے پڑھائی۔

نمازِ جنازہ میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان، پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف، عدلیہ کے سربراہ غلام حسین محسنی اژہ ای، شہید ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کے تین بیٹے مسعود، میثم اور مصطفیٰ خامنہ ای سمیت اعلیٰ حکومتی شخصیات نے شرکت کی۔

تاہم آیت اللہ خامنہ ای کے صاحبزادے اور نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نمازِ جنازہ میں شریک نہیں ہوئے۔ ایرانی حکام کے مطابق اسرائیل کی جانب سے انہیں نشانہ بنانے کی دھمکیوں اور سیکیورٹی خدشات کے باعث انہوں نے عوامی تقریب میں شرکت سے گریز کیا۔

اس موقع پر سپاہ پاسداران انقلاب (آئی آر جی سی) کی قدس فورس کے کمانڈر جنرل اسماعیل قاآنی بھی نمازِ جنازہ میں موجود تھے اور انہوں نے شہید رہنما کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔

نمازِ جنازہ میں ملک کی سیاسی، مذہبی اور عسکری قیادت کی بڑی تعداد نے شرکت کی، جبکہ لاکھوں سوگوار بھی اس موقع پر موجود تھے۔

نمازِ جنازہ کے بعد تقریب کے منتظمین نے حاضرین سے کہا کہ وہ سابق ایرانی رہبر اعلیٰ علی خامنہ ای کے خون کا بدلہ لینے اور انتقام کے نعرے لگائیں۔

نمازِ جنازہ کے بعد آیت اللہ خامنہ ای کی میت کو مزید آخری رسومات کے لیے عراق کے مقدس شہروں نجف اور کربلا لے جایا جائے گا، جبکہ بعد ازاں ایران کے شہر مشہد میں سپردِ خاک کیا جائے گا۔

یاد رہے کہ 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے مشترکہ حملے میں آیت اللہ علی خامنہ ای شہید ہوگئے تھے، جس کے بعد 8 مارچ کو تقریباً ایک ہفتے کے اندر ایران نے نئے سپریم لیڈر کا انتخاب کر لیا تھا، تاہم شہید رہنما کی تدفین فوری طور پر نہیں کی گئی۔

گزشتہ روز آیت اللہ سید علی خامنہ ای اور ان کے ساتھ شہید ہونے والے اہلِ خانہ کی میتیں تہران میں عوامی دیدار اور سرکاری تعزیتی تقریبات کے لیے رکھی گئی تھیں، جہاں ہزاروں افراد نے انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا۔