نیتن یاہو کی بات ماننے سے اسرائیلی انٹیلی جنس انکاری
ایران کے جوہری پروگرام کو پہنچنے والے نقصان کا مکمل اور حتمی اندازہ ابھی دستیاب نہیں
اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو کے ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق دعووں پر اسرائیلی انٹیلی جنس اداروں کی جانب سے مکمل توثیق نہ کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق نیتن یاہو کا مؤقف ہے کہ حالیہ فوجی کارروائیوں کے بعد ایران کے جوہری پروگرام کو فیصلہ کن نقصان پہنچا ہے، تاہم انٹیلی جنس حکام نے اس دعوے کی مکمل تصدیق سے گریز کیا ہے۔
رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی حکام کے درمیان اس معاملے پر اختلافِ رائے اس وقت سامنے آیا جب سیکیورٹی اداروں سے ایران کی جوہری تنصیبات کو پہنچنے والے نقصان سے متعلق حتمی مؤقف اختیار کرنے کی بات کی گئی۔
ایک اسرائیلی اخبار نے ایک عہدیدار کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام کو پہنچنے والے نقصان کا مکمل اور حتمی اندازہ ابھی دستیاب نہیں، اس لیے اس کی مکمل تباہی کی تصدیق کرنا قبل از وقت ہوگا۔
یہ پیش رفت اسرائیل اور ایران کے درمیان حالیہ کشیدگی اور فوجی کارروائیوں کے بعد سامنے آئی ہے، جبکہ اس معاملے پر مختلف فریقین کے دعوے اور اندازے ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔