امریکہ اور اسرائیل ایران کے اتحادیوں کو تسلیم کرنے پر مجبور ہوئے۔قالیباف

امریکہ کو شکست اور مزاحمتی اتحاد کو عسکری و سیاسی برتری حاصل ہوئی

July 6, 2026 · بام دنیا

ایران کے اسپیکر پارلیمنٹ محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ حالیہ مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) مزاحمتی محور کی ایک اہم کامیابی ہے، جس کے نتیجے میں امریکا اور اسرائیل کو عملی طور پر ایران کے علاقائی اتحادیوں کو تسلیم کرنا پڑا۔

یمن کے نائب صدر محمد النعیمی سے ملاقات کے دوران قالیباف نے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل اس بات پر مجبور ہوئے کہ وہ ایران کے مزاحمتی اتحادیوں کی موجودگی اور کردار کو عملی طور پر تسلیم کریں، اور یہی اس معاہدے کی نمایاں کامیابیوں میں سے ایک ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ مفاہمتی یادداشت امریکہ کے لیے شکست جبکہ مزاحمتی محور کے لیے عسکری اور سیاسی دونوں محاذوں پر ایک بڑی کامیابی ثابت ہوئی ہے۔

واضح رہے کہ ایران کے علاقائی اتحاد، جسے “مزاحمتی محور” کہا جاتا ہے، میں لبنان کی حزب اللہ، یمن کے حوثی، غزہ کی حماس اور عراق کے شیعہ مسلح گروہ شامل ہیں۔

قالیباف نے خبردار کیا کہ اگر امریکہ اور اسرائیل کو ایران کسی بھی مرحلے پر کمزور دکھائی دیا تو وہ دوبارہ جنگ کا راستہ اختیار کرنے کی کوشش کریں گے۔