چین کا آبدوز سے اسٹریٹجک میزائل کا کامیاب تجربہ
اسے میزائل تجربے کے بارے میں پہلے ہی آگاہ کر دیا گیا تھا، تاہم ٹوکیو نے بیجنگ پر زور دیا تھا کہ وہ اس فیصلے پر دوبارہ غور کرے۔
بیجنگ: چین نے آبدوز سے اسٹریٹجک بیلسٹک میزائل کا کامیاب تجربہ کرنے کی تصدیق کر دی ہے، جس کے بعد آسٹریلیا، نیوزی لینڈ اور جاپان نے خطے کی سلامتی پر خدشات کا اظہار کیا ہے۔
چینی سرکاری میڈیا کے مطابق تجرباتی میزائل کو ڈمی وارہیڈ کے ساتھ لانچ کیا گیا، جو بحرالکاہل میں پہلے سے مقررہ مقام پر کامیابی سے جا گرا۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ تجربہ معمول کے فوجی تربیتی پروگرام کا حصہ تھا اور اسے بین الاقوامی قوانین کے مطابق انجام دیا گیا، جبکہ متعلقہ ممالک کو پیشگی اطلاع بھی فراہم کی گئی تھی۔
چینی حکام نے واضح کیا کہ اس تجربے کا مقصد کسی مخصوص ملک یا ہدف کو نشانہ بنانا نہیں تھا بلکہ یہ معمول کی دفاعی مشقوں کا حصہ تھا۔
جاپان نے بتایا کہ اسے میزائل تجربے کے بارے میں پہلے ہی آگاہ کر دیا گیا تھا، تاہم ٹوکیو نے بیجنگ پر زور دیا تھا کہ وہ اس فیصلے پر دوبارہ غور کرے۔
ادھر آسٹریلیا کی وزیر خارجہ پینی وونگ نے کہا کہ اگرچہ چین نے تجربے سے قبل اطلاع دی تھی، لیکن طویل فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائلوں کے تجربات خطے میں کشیدگی اور عدم استحکام پیدا کر سکتے ہیں۔
نیوزی لینڈ نے بھی اس پیش رفت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جوہری صلاحیت رکھنے والے طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کے تجربات علاقائی امن و استحکام کے لیے مثبت اشارہ نہیں ہیں۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب آسٹریلیا نے بحرالکاہل کے جزیرہ نما ملک فجی کے ساتھ دفاعی تعاون کے ایک اہم معاہدے پر دستخط کیے ہیں، جسے خطے میں بدلتی ہوئی تزویراتی صورتحال کے تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے۔