امریکی پابندیوں میں عارضی نرمی، ایران نے جاپان کو خام تیل کی فروخت کے لیے رابطے بڑھا دیے

ایران اور امریکہ کے درمیان جاری سفارتی رابطوں کے نتیجے میں دی گئی 60 روزہ عارضی رعایت 21 اگست کو ختم ہونے والی ہے

July 6, 2026 · بام دنیا

ایران نے امریکی پابندیوں میں دی گئی عارضی نرمی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے جاپانی کمپنیوں کے ساتھ خام تیل کی ممکنہ برآمدات کے حوالے سے ابتدائی مذاکرات کا آغاز کر دیا ہے۔ تاہم جاپانی خریداروں نے کسی بھی معاہدے سے قبل پابندیوں میں طویل المدت نرمی اور محفوظ ترسیل کی ضمانت کا مطالبہ کیا ہے۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران اور امریکہ کے درمیان جاری سفارتی رابطوں کے نتیجے میں دی گئی 60 روزہ عارضی رعایت 21 اگست کو ختم ہونے والی ہے، جس کے باعث مستقبل کی صورتحال تاحال غیر یقینی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ جاپان کی تین بڑی توانائی کمپنیاں 2019 کے بعد پہلی مرتبہ ایران سے خام تیل خریدنے کے امکان کا جائزہ لے رہی ہیں، جبکہ دونوں ممالک کے حکام کے درمیان ابتدائی سطح پر مشاورت جاری ہے۔

یاد رہے کہ 2019 میں امریکہ کی جانب سے ایران پر سخت پابندیاں عائد کیے جانے کے بعد جاپان، جنوبی کوریا، بھارت اور کئی یورپی ممالک نے ایرانی تیل کی درآمد بند کر دی تھی، جبکہ اس عرصے میں چین ایران کے خام تیل کا سب سے بڑا خریدار رہا۔

ایرانی حکام کے مطابق جاپان کے ساتھ کسی بھی ممکنہ معاہدے کے لیے امریکی پابندیوں میں مزید توسیع ناگزیر ہوگی، کیونکہ تیل کی ترسیل میں کئی ہفتے لگ سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ بحری راستوں کی مکمل سیکیورٹی بھی ایک اہم مسئلہ ہے۔

رپورٹس کے مطابق ایران خام تیل خلیج فارس میں واقع خارج آئل ٹرمینل سے روانہ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، جبکہ ترسیل کے لیے جاپانی آپریٹرز کے زیر انتظام آئل ٹینکرز استعمال کیے جا سکتے ہیں۔

ادھر آبنائے ہرمز اور دیگر سمندری راستوں میں سیکیورٹی خدشات بدستور موجود ہیں۔ حالیہ مہینوں میں بحری جہازوں پر حملوں اور سمندری بارودی سرنگوں کے خدشات نے عالمی شپنگ صنعت کی تشویش میں اضافہ کیا ہے۔

توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ عارضی رعایت کے باوجود ایران کے خام تیل کی بڑی برآمدات کا انحصار بدستور چین جیسے روایتی خریداروں پر ہی رہنے کا امکان ہے، کیونکہ دیگر ایشیائی خریدار محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔