اسرائیلی وزیرِ دفاع کی ایران کو کھلی دھمکی، قیادت کو نشانہ بنانے کا عندیہ

اگر مستقبل میں کوئی بھی ایرانی رہنما اسرائیل کے خلاف کارروائیوں کی منصوبہ بندی کرے گا تو اسے نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

July 6, 2026 · بام دنیا

یروشلم: اسرائیل کے وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز نے ایران کے خلاف سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر مستقبل میں کوئی بھی ایرانی رہنما اسرائیل کے خلاف کارروائیوں کی منصوبہ بندی کرے گا تو اسے نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیلی وزیرِ دفاع نے دعویٰ کیا کہ ایران کی اعلیٰ قیادت اسرائیل کے خلاف مبینہ منصوبوں میں ملوث رہی ہے، اسی تناظر میں ماضی میں بھی کارروائی پر غور کیا گیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ اسرائیل اپنی قومی سلامتی کو درپیش ہر ممکن خطرے سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے اور اپنے دفاع کے لیے ضروری اقدامات کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔

رپورٹس کے مطابق یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب تہران میں ایران کی اعلیٰ قیادت سے متعلق جاری تقریبات پر خطے کی توجہ مرکوز ہے۔

اس سے قبل بھی اسرائیلی وزیرِ دفاع نے ایران کی اعلیٰ قیادت سے متعلق سخت بیانات دیے تھے، جن پر تہران نے شدید ردعمل ظاہر کیا تھا۔

ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے ان بیانات پر ردعمل دیتے ہوئے کہا تھا کہ خطے میں کشیدگی بڑھانے والے اقدامات کے نتائج سنگین ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایران کے خلاف کسی قسم کی جارحیت کی گئی تو اس کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق حالیہ بیانات سے مشرقِ وسطیٰ میں پہلے سے موجود کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے، جبکہ عالمی برادری مسلسل دونوں ممالک پر تحمل اور سفارتی ذرائع اختیار کرنے پر زور دے رہی ہے۔