حماس کا 20 سال بعد غزہ کی حکومت سے دستبرداری کا اعلان
غزہ گورننگ باڈی تحلیل کر دی ، ٹیکنوکریٹ حکومت کی راہ ہموار،ایمرجنسی کمیٹی کے سربراہ محمد الفرا نے باضابطہ طور پر استعفیٰ جمع کروادیا۔
فائل فوٹو
غزہ:حماس نے غزہ میں اپنی حکومت کے خاتمے انتظامی کمیٹی تحلیل کرنے کا اعلان کردیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق حماس کی قیادت نے اس فیصلے کا اعلان کیا جس کا مقصد نیشنل کمیٹی سِوِل مینجمنٹ کی بنیاد پر ٹیکنوکریٹک حکومت قائم کرنا ہے۔
حماس کے حکومتی میڈیا دفتر کے سربراہ اسماعیل الثوابتہ کے مطابق ایمرجنسی کمیٹی کے سربراہ محمد الفرا نے باضابطہ طور پر استعفیٰ جمع کروایا ہے۔
انہوں نے انتظامی اور حکومتی منتقلی کو آسان بنانے کے لیے اس کمیٹی کو بھی تحلیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے، تاکہ غزہ کے انتظام کے لیے قومی کمیٹی کی طرف منتقلی ممکن ہو سکے۔
ترجمان حماس نے عرب میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب معاملہ ثالثوں کے ہاتھ میں ہے، یہ اقدام غزہ میں ٹیکنو کریٹ کمیٹی کے قیام کے لیے ماحول کو مزید ہموار کرنے کی ایک پیش رفت ہے۔
ترجمان حماس کا کہنا ہے کہ معاہدے کے ضامن ممالک اور امریکی انتظامیہ کی ذمے داری ہے کہ وہ اس معاہدے پر عمل درآمد کرائیں، حماس نے اپنی ذمے داری پوری کر دی ہے۔
انہوں نے کہا ہے کہ آج ہم ثالثوں کے کورٹ میں گیند ڈال رہے ہیں، ثالث قومی کمیٹی کو علاقے میں داخل ہونے کی اجازت دلوانے کے لیے فریقین پر زور ڈالیں۔
حماس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ اسرائیل جھوٹے پروپیگنڈے اور بے بنیاد الزامات سے معاہدے کی خلاف ورزی سے توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہا ہے، غزہ کی پٹی میں جارحیت کے خاتمے کے بعد کسی بھی انتظامی نظام کا حصہ نہیں بننا چاہتے۔
تاہم حماس نے واضح کیا ہے سِوِل حکومت سے دستبرداری کا مطلب اس کی مکمل غیر مسلح ہونے پر رضامندی نہیں ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ انتظامی اختیارات منتقل کیے جا سکتے ہیں، لیکن اسلحے اور عسکری ونگ سے متعلق معاملہ الگ موضوع ہے۔