گل پلازہ آتشزدگی کیس: ایسوسی ایشن کے صدر سمیت 5 ملزمان کی ضمانت منظور

آگ کسی بیرونی سازش کا نتیجہ نہیں بلکہ دکان کے مالک کی مجرمانہ غفلت اور ایک کم عمر بچے کی لاپرواہی کے باعث بھڑکی، پولیس چالان

July 6, 2026 · قومی
فائل فوٹو

فائل فوٹو

کراچی:گل پلازہ آتشزدگی کیس میں نامزد گل پلازہ ایسوسی ایشن کے صدر تنویر پاستا سمیت پانچ ملزمان کی عدالت نے ضمانت منظور کر لی۔ عدالت نے تمام ملزمان کو پانچ، پانچ لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکے جمع کرانے کا حکم دیا ہے۔

سماعت کے دوران عدالت نے ملزمان کے وکیل سے استفسار کیا کہ کم عمر ملزم کی درخواست اسی عدالت میں کیوں دائر کی گئی ہے۔ وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ تمام ملزمان کے خلاف ایک ہی مقدمے کا چالان جمع کرایا گیا ہے، اسی لیے درخواست بھی اسی عدالت میں دائر کی گئی۔

عدالت نے سوال کیا کہ کم عمر ملزم کا اس مقدمے میں کیا کردار ہے، جس پر وکیل نے موقف اختیار کیا کہ 72 افراد کی جانیں چلی گئیں لیکن پولیس نے آدھے صفحے میں پورا کیس نمٹا دیا اور کسی بھی سرکاری یا سول ادارے پر ذمے داری عائد نہیں کی۔

عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پولیس نے ملزمان کو رعایت دیتے ہوئے گرفتار نہیں کیا جبکہ چارج شیٹ دو مرتبہ مسترد ہونے کے باوجود انھی اعتراضات کے ساتھ دوبارہ چالان عدالت میں جمع کرایا گیا ہے۔

اس سے قبل سنیچر کو پولیس نے اپنے عبوری چالان میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ گل پلازہ مارکیٹ میں لگنے والی ہولناک آگ، جس میں 72 افراد ہلاک اور آٹھ زخمی ہوئے، کسی بیرونی سازش کا نتیجہ نہیں بلکہ دکان کے مالک کی مجرمانہ غفلت اور ایک کم عمر بچے کی لاپرواہی کے باعث بھڑکی۔

پولیس کے مطابق گراؤنڈ فلور پر واقع دکان نمبر 193 کے مالک اپنی دکان اکثر اپنے کم عمر بیٹے کے سپرد کر کے چلے جاتے تھے۔ واقعے کے روز وہ بچہ اپنے ایک دوست کے ساتھ دکان پر موجود تھا اور مبینہ طور پر کھیل کے دوران ماچس کی تیلیاں جلا کر پھینک رہا تھا، جس سے دکان میں موجود مصنوعی پھولوں نے آگ پکڑ لی اور آگ تیزی سے پوری مارکیٹ میں پھیل گئی۔

عبوری چالان میں کہا گیا ہے کہ دونوں بچوں نے آگ بجھانے کی کوشش کی، تاہم آگ کی شدت زیادہ ہونے کے باعث وہ کامیاب نہ ہو سکے۔ پولیس کے مطابق عینی شاہدین اور دیگر ملازمین کے بیانات بھی اس مؤقف کی تائید کرتے ہیں۔

چالان میں مزید بتایا گیا ہے کہ ریسکیو 1122 اور ایدھی کے اہلکاروں کے بیانات سے معلوم ہوا کہ مارکیٹ کے مختلف فلورز اور مسجد کے اطراف نصب شٹر نما گرل گیٹس پر تالے لگے ہوئے تھے، جبکہ ہنگامی اخراج کے راستے بند تھے اور ایمرجنسی لائٹنگ کا بھی کوئی انتظام موجود نہیں تھا، جس کے باعث متعدد افراد بروقت باہر نہ نکل سکے۔

پولیس نے اپنی تفتیش میں یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ کال ڈیٹا ریکارڈ کے مطابق مارکیٹ یونین کے عہدیداران نے واقعے کے بعد کسی بھی ہنگامی امدادی سروس، جیسے 15 یا 16، پر مدد کے لیے رابطہ نہیں کیا۔ چالان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ یونین نے کم عمر بچے کو دکان چلانے سے روکنے کے لیے بھی کوئی اقدام نہیں کیا۔

تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق ڈسٹرکٹ آفیسر سول ڈیفنس نے بتایا کہ مارکیٹ میں فائر ہائیڈرنٹ سسٹم، فائر ماسک، ٹارچ اور دیگر بنیادی حفاظتی سہولیات موجود نہیں تھیں، جبکہ مارکیٹ انتظامیہ کے پاس فائر سیفٹی سے متعلق کوئی تربیت بھی نہیں تھی اور دکانداروں کے لیے حفاظتی سیشن بھی منعقد نہیں کیے گئے تھے، حالانکہ اس سے قبل بھی اس پلازہ میں دو مرتبہ آتشزدگی کے واقعات پیش آ چکے تھے۔

پولیس نے اپنے عبوری چالان میں گل پلازہ یونین کے صدر تنویر پاستا، نائب صدر عماد اسماعیل، جوائنٹ سیکریٹری محمد رمضان، جنرل سیکریٹری محمد امین، دکاندار نعمت اللہ اور ایک کم عمر بچے کو نامزد کیا ہے۔

چالان کے مطابق مارکیٹ یونین کے عہدیداران اور دکان مالک نعمت اللہ کی عدم گرفتاری کے باعث ان کے خلاف ضابطۂ فوجداری کی دفعہ 512 کے تحت کارروائی کی جا رہی ہے، جبکہ کم عمر ہونے کے باعث بچے کا مقدمہ الگ سے جووینائل کورٹ کو بھیجا گیا ہے۔