آیت اللہ خامنہ ای کی میت قم منتقل۔ آج دوبارہ نمازِ جنازہ ادا ہوگی
تہران کے بعد قم میں بھی لاکھوں افراد کی آخری دیدار کے لیے آمد
ایران کے شہید سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی میت ہیلی کاپٹر کے ذریعے قم منتقل کر دی گئی، جہاں آج ان کی نمازِ جنازہ ایک بار پھر ادا کی جائے گی۔
اس سے قبل تہران میں نمازِ جنازہ ادا کی گئی، جس میں ایرانی اور روسی ذرائع کے مطابق غیرمعمولی تعداد میں عوام نے شرکت کی۔ ایرانی میڈیا کا دعویٰ ہے کہ جنازے میں ایک کروڑ 20 لاکھ سے ڈیڑھ کروڑ افراد شریک ہوئے، جبکہ بعض روسی ذرائع نے شرکا کی تعداد ایک کروڑ سے زائد بتائی ہے۔
غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق جنازے کے جلوس کو حالیہ برسوں کے بڑے عوامی اجتماعات میں شمار کیا جا رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ اجتماع جنگ کے بعد قومی اتحاد اور مزاحمت کی علامت بن کر سامنے آیا۔
ماہرین کے مطابق جنازے میں عوام کی بڑی تعداد نے یہ تاثر دیا کہ بیرونی دباؤ کے باوجود ایران داخلی طور پر متحد ہے۔ ان کے بقول یہی یکجہتی مستقبل میں ایران کی سفارتی اور مذاکراتی حکمت عملی پر بھی اثرانداز ہو سکتی ہے۔
تجزیہ کاروں کا مزید کہنا ہے کہ خطے میں ایران کی اسٹریٹجک اہمیت، خصوصاً آبنائے ہرمز کے حوالے سے، مستقبل میں ہونے والے کسی بھی ممکنہ جوہری مذاکرات میں اہم عنصر بن سکتی ہے۔