دھمکیوں کے سائے میں مذاکرات شروع نہیں ہوں گے۔عباس عراقچی
ٹرمپ کے بیان پر ایران کا ردعمل، مذاکرات کو دھمکیوں سے مشروط کرنے سے انکار
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ اگر دھمکیوں کا سلسلہ جاری رہا تو حتمی معاہدے کے لیے مذاکرات کا آغاز نہیں ہوگا۔ انہوں نے اس حوالے سے امریکہ کے ساتھ طے پانے والی مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کی شق 13 کا حوالہ بھی دیا۔
عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ لاکھوں باوقار ایرانی رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات میں شرکت کے لیے جمع ہو رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ نہ ایرانی عوام اور نہ ہی ہماری بہادر مسلح افواج کسی قسم کی دھمکی سے مرعوب ہوں گی۔ اپنے دستخط اور معاہدے کا احترام کریں۔
ایرانی وزیر خارجہ کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کے بعد سامنے آیا، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ امریکہ یا تو ایران کے ساتھ معاہدہ کرے گا یا پھر “کام مکمل کر دے گا۔
ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس کے اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ “ہم ایک گھنٹے میں ان کے پل تباہ کر سکتے ہیں، ان کی توانائی کی فراہمی بند کر سکتے ہیں۔ ان کے پاس اس وقت پیسہ بھی نہیں ہے، ہم نے انہیں کوئی رقم نہیں دی۔