ایران کے سابق رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ اور تدفین کی تقریبات میں لاکھوں سوگواروں کے علاوہ مختلف ممالک کے صدور، وزرائے اعظم، وزرائے خارجہ اور اعلیٰ حکام نے شرکت کی، تاہم تمام تر توجہ موجودہ رہبرِ اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای کی مسلسل عدم موجودگی پر مرکوز رہی۔
مجتبیٰ خامنہ ای گزشتہ فروری کے آخر میں ہونے والے اسرائیلی فضائی حملے کے بعد سے عوامی سطح پر نظر نہیں آئے۔ اس حملے میں ان کے والد علی خامنہ ای، اہلیہ زہرا حداد عادل اور خاندان کے دیگر افراد جاں بحق ہوئے تھے، جبکہ بعض غیر ملکی میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا کہ مجتبیٰ خامنہ ای بھی زخمی ہوئے، تاہم ایرانی حکام نے ان اطلاعات کی نہ تو تصدیق کی ہے اور نہ ہی تردید۔
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ موجودہ رہبرِ اعلیٰ کی عوامی تقریبات میں عدم شرکت کی وجہ انہیں لاحق سیکیورٹی خطرات ہیں۔ تاہم جنازے میں علی خامنہ ای کے دیگر صاحبزادوں، اعلیٰ سرکاری شخصیات اور غیر ملکی وفود کی موجودگی کے باعث عوامی حلقوں میں ان کی صحت اور سیکیورٹی سے متعلق سوالات اور قیاس آرائیاں شدت اختیار کر گئی ہیں۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق جنازے میں شریک بعض شہریوں کا کہنا تھا کہ رہبرِ اعلیٰ کی عوامی موجودگی ہمیشہ ریاستی استحکام اور اعتماد کی علامت سمجھی جاتی رہی ہے، اس لیے ان کی طویل غیر حاضری لوگوں میں بے چینی پیدا کر رہی ہے۔ دوسری جانب کچھ افراد کا مؤقف ہے کہ موجودہ حالات میں ان کا منظرِ عام پر نہ آنا ایک ضروری حفاظتی اقدام ہے، کیونکہ انہیں بھی ممکنہ خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔
ادھر اسرائیلی وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز نے دعویٰ کیا کہ علی خامنہ ای کو اسرائیل کے خلاف منصوبہ بندی کی وجہ سے نشانہ بنایا گیا، اور خبردار کیا کہ مستقبل میں بھی اسرائیل کے خلاف کارروائی کرنے والے کسی بھی ایرانی رہنما کو ہدف بنایا جا سکتا ہے۔
دوسری جانب مجتبیٰ خامنہ ای کی صحت سے متعلق مختلف افواہیں بھی گردش کر رہی ہیں، جن میں اسرائیلی حملے میں چہرے اور ٹانگوں پر زخم آنے کے دعوے شامل ہیں، تاہم ان خبروں کی سرکاری سطح پر کوئی تصدیق نہیں ہوئی۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ایران میں رہبرِ اعلیٰ کی روزانہ عوامی موجودگی معمول کا حصہ نہیں، لیکن قومی بحرانوں اور اہم مذہبی یا سرکاری مواقع پر ان کی شرکت ریاستی استحکام کی علامت تصور کی جاتی ہے۔ ان کے مطابق اگر مجتبیٰ خامنہ ای کی غیر حاضری طویل عرصے تک برقرار رہی تو اس سے ملک کے اندر قیاس آرائیوں اور خدشات میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔