آبنائے ہرمز میں قطری جہاز پر ایرانی حملہ؛ قطر کی شدید مذمت
قطر کا ایران سے بحری سلامتی اور عالمی توانائی کی سپلائی کو خطرے میں ڈالنے والے اقدامات فوری روکنے کا مطالبہ
فائل فوٹو
دوحہ: قطر نے منگل کے روز آبنائے ہرمز کے قریب قطری مالکیتی بحری جہاز پر ایرانی حملے کی شدید مذمت کی ہے اور تہران سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بین الاقوامی بحری سلامتی اور عالمی توانائی کی سپلائی کو خطرے میں ڈالنے والے اقدامات فوری طور پر بند کرے۔
امریکی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری کردہ ایک بیان میں قطری وزارتِ خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے کہا کہ اس اہم اور تزویراتی آبی گزرگاہ (اسٹریٹجک واٹر وے) سے گزرنے والے قطر کے ایل این جی (مائع قدرتی گیس) بردار جہاز ‘الرقیات’ کو نشانہ بنانا بین الاقوامی بحری نیویگیشن کی سلامتی اور تحفظ پر ایک “ناقابلِ قبول حملہ” ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ حملہ عالمی توانائی کی سپلائی کے لیے سنگین خطرہ اور بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے، بالخصوص ان اصولوں کی جو بین الاقوامی آبی گزرگاہوں سے محفوظ گزرگاہ اور آزادانہ نیویگیشن کی ضمانت دیتے ہیں۔
وزارتِ خارجہ کے ترجمان کا کہنا تھا ہم اسلامی جمہوریہ ایران سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ خطے کی سلامتی کو نقصان پہنچانے یا بین الاقوامی بحری نیویگیشن کے تحفظ کو خطرے میں ڈالنے والے تمام اقدامات فوری طور پر بند کرے، اور اپنے محدود مفادات کے حصول کے لیے عالمی توانائی کی سپلائی اور خطے کے ممالک کے وسائل کو داؤ پر لگانے سے گریز کرے۔
ماجد الانصاری نے واضح کیا کہ قطر اس حملے اور اس کے نتیجے میں ہونے والے کسی بھی نقصان یا عواقب کی “مکمل قانونی ذمہ داری” ایران پر عائد کرتا ہے۔
ذرائع کے مطابق پیر کی رات دیر گئے آبنائے ہرمز سے گزرتے وقت ایرانی میزائلوں کا نشانہ بننے والے دو تجارتی جہازوں میں قطری جہاز ‘الرقیات’ بھی شامل تھا۔ حملے کے نتیجے میں جہاز کو شدید نقصان پہنچا تاہم کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
دوسری جانب، ایرانی سرکاری میڈیا نے نامعلوم ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ ایک قطری تیل بردار جہاز نے امریکی بحریہ کی مدد سے آبنائے ہرمز میں عمانی راستے سے گزرنے کی کوشش کی، جسے ایرانی افواج کی جانب سے بارہا دی جانے والی انتباہی وارنگز کو نظر انداز کرنے پر نشانہ بنایا گیا۔
واضح رہے کہ آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی سپلائی کے لیے دنیا کی اہم ترین تجارتی گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے دنیا کی خام تیل اور گیس کی سپلائی کا ایک بڑا حصہ گزرتا ہے۔