امریکہ نے مفاہمتی یادداشت کی چار شقوں کی خلاف ورزی کی، محمد باقر قالیباف

دباؤ اور طاقت کے ذریعے ایران کو اپنے مؤقف سے پیچھے ہٹانے کی کوششیں کامیاب نہیں ہوں گی۔

ایران کے پارلیمانی اسپیکر اور مرکزی مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے الزام عائد کیا ہے کہ امریکہ نے دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کی متعدد شقوں کی خلاف ورزی کی ہے۔

سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں قالیباف نے کہا کہ آبنائے ہرمز سے متعلق طے شدہ انتظامات کی خلاف ورزی، ایران کے خلاف مزید فوجی کارروائیوں کی دھمکیاں، ایرانی تیل کی فروخت پر پابندیوں کی بحالی اور لبنان میں اسرائیلی حملوں کا جاری رہنا ایسے اقدامات ہیں جو مفاہمتی فریم ورک سے متصادم ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ دباؤ اور طاقت کے ذریعے ایران کو اپنے مؤقف سے پیچھے ہٹانے کی کوششیں کامیاب نہیں ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ ایران اپنے قومی مفادات اور خودمختاری پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا۔

دوسری جانب امریکی حکام کی جانب سے ایرانی الزامات پر فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔

واضح رہے کہ حالیہ دنوں میں امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی فوجی کشیدگی کے بعد دونوں ممالک ایک دوسرے پر معاہدوں اور مفاہمتی اقدامات کی خلاف ورزی کے الزامات عائد کر رہے ہیں، تاہم ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے مکمل تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔