امریکہ کا سکھ رہنماؤں کے قتل میں ملوث بھارتی بشنوئی گینگ کے خلاف بڑا کریک ڈاؤن، 24 گرفتار

ق کارروائی کے دوران مختلف مقامات پر درجنوں سرچ وارنٹس پر عمل درآمد کیا گیا، جبکہ کیلیفورنیا سمیت مختلف ریاستوں میں متعدد افراد کو حراست میں لیا گیا۔

July 8, 2026 · بام دنیا

 

 امریکی قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بھارتی نژاد بین الاقوامی جرائم پیشہ بشنوئی گینگ کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے امریکہ، کینیڈا اور یورپ میں مشترکہ کارروائیوں کے دوران 24 مشتبہ افراد کو گرفتار کر لیا۔

 

امریکی حکام کے مطابق کارروائی کے دوران امریکہ بھر میں متعدد مقامات پر چھاپے مارے گئے جبکہ کینیڈا، اسپین اور دیگر علاقوں میں بھی قانون نافذ کرنے والے اداروں نے کارروائیاں کیں۔ مجموعی طور پر 50 سے زائد مقامات پر چھاپے مارے گئے اور متعدد سرچ وارنٹس پر عمل درآمد کیا گیا۔

 

حکام کا کہنا ہے کہ کارروائی کے دوران 2,200 پاؤنڈ سے زائد کوکین اور ہیروئن، 40 ہزار امریکی ڈالر نقدی اور ایک درجن سے زائد آتشیں اسلحہ بھی برآمد کیا گیا۔

اس کارروائی کو ’’ آپریشن ہارڈ بال‘‘ کا نام دیا گیا تھا۔

آپریشن ہارڈ بال تین انڈین جرائم پیشہ سنڈیکیٹس کے خلاف کئی سالہ وفاقی خفیہ تفتیش کا نتیجہ تھا، جو بنیادی طور پر لارنس بش نوئی کی قیادت میں چلائے جا رہے تھے۔ یہ سنڈیکیٹس ریکٹیرنگ، ٹارگٹ کلنگ، فائرنگ، بھتہ خوری، بڑے پیمانے پر منشیات کی سمگلنگ اور دیگر جرائم میں ملوث تھے۔

ایف بی آئی کے ایجنٹس نے امریکہ، کینیڈا اور یورپ میں کم از کم 50 چھاپے مارے، جن میں کم از کم دو درجن مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا۔

بش نوئی گینگ کو کینیڈا کی حکومت نے دہشت گرد تنظیم قرار دیا ہے اور یہ کریکیٹ کینیڈا میں میچ فکسنگ اور بدعنوانی پھیلانے میں ملوث بتایا جاتا ہے۔اس گینگ کی قیادت 33 سالہ لارنس بش نوئی کر رہا ہے، جو انڈیا میں طویل عرصے سے قید ہے اور اپنی جیل کی سیل سے آپریشن چلا رہا ہے۔

 

امریکی استغاثہ کے مطابق بشنوئی گینگ پر ٹارگٹ کلنگ، بھتہ خوری، اغوا، منشیات کی بین الاقوامی اسمگلنگ، اسلحے کی غیر قانونی تجارت اور دیگر سنگین جرائم میں ملوث ہونے کے الزامات ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ گروہ امریکہ، کینیڈا، بھارت اور یورپ میں منظم جرائم کے نیٹ ورک کے طور پر سرگرم تھا۔

تحقیقات کے مطابق گینگ پر 2023 میں کینیڈا میں سکھ رہنما ہردیپ سنگھ ننجر کے قتل سمیت متعدد ہائی پروفائل حملوں کی منصوبہ بندی اور معاونت کے الزامات بھی ہیں۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس نیٹ ورک نے معروف سماجی، سیاسی اور مذہبی شخصیات کو دھمکیاں دے کر بھتہ وصول کیا اور خوف و ہراس پھیلانے کی کوشش کی۔

 

امریکی پراسیکیوٹر بل ایسائلی نے کہا کہ گرفتار افراد پر انتہائی پرتشدد اور خطرناک مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے الزامات ہیں اور امریکی سرزمین پر ایسے جرائم پیشہ نیٹ ورکس کے لیے کسی قسم کی رعایت نہیں دی جائے گی۔

 

حکام کے مطابق گرفتار ملزمان کے خلاف منظم جرائم، منشیات کی اسمگلنگ، بھتہ خوری، دھوکہ دہی اور دیگر سنگین جرائم کے مقدمات درج کیے گئے ہیں، جبکہ متعدد مزید مطلوب ملزمان کی تلاش بھی جاری ہے۔ امریکی حکام نے واضح کیا ہے کہ بین الاقوامی جرائم پیشہ نیٹ ورکس کے خلاف کارروائیاں آئندہ بھی جاری رہیں گی۔