ایران سے نئی جنگ کے دوران ٹرمپ کو طیارہ بدلنا پڑ گیا
نیا طیارہ قطر کی جانب سے امریکا کو دیا گیا بوئنگ 747-8 جیٹ ہے، جسے دفاعی کمپنی ایل تھری ہیرس ٹیکنالوجیز نے صدارتی استعمال کے لیے تیار کیا ہے
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران ترکیہ سے روانگی کے وقت اپنا طیارہ تبدیل کر لیا۔ ٹرمپ پہلے پرانے ایئر فورس ون طیارے پر ترکیہ سے روانہ ہوئے، تاہم بعد میں برطانیہ میں نئے صدارتی طیارے میں منتقل ہو گئے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق ٹرمپ نیٹو سربراہی اجلاس کے سلسلے میں ترکیہ گئے تھے، جہاں سے واپسی پر انہوں نے غیر متوقع طور پر پرانے ’’بیبی بلیو‘‘ ایئر فورس ون طیارے کا استعمال کیا۔ بعد ازاں وہ برطانیہ کے رائل ایئر فورس ملڈن ہال اڈے پر نئے طیارے میں سوار ہوئے اور امریکا روانہ ہو گئے۔
رپورٹس کے مطابق نیا طیارہ قطر کی جانب سے امریکا کو دیا گیا بوئنگ 747-8 جیٹ ہے، جسے دفاعی کمپنی ایل تھری ہیرس ٹیکنالوجیز نے صدارتی استعمال کے لیے تیار کیا ہے۔ اس طیارے کو ٹرمپ کے منتخب کردہ رنگوں کے مطابق ڈیزائن کیا گیا ہے۔
ٹرمپ سے جب ترکیہ میں روانگی کے دوران طیارہ تبدیل کرنے کی وجہ پوچھی گئی تو انہوں نے براہ راست جواب نہیں دیا، تاہم ایران سے ممکنہ خطرات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایران کی ہٹ لسٹ میں پہلے نمبر پر ہیں۔
نئے صدارتی طیارے کے حوالے سے ماضی میں سکیورٹی اور لاگت سے متعلق سوالات اٹھائے جاتے رہے ہیں۔ بعض ماہرین نے طیارے کی حفاظتی صلاحیتوں اور تبدیلی کے عمل پر تحفظات کا اظہار کیا، جبکہ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ طیارہ صدارتی معیار کے مطابق تیار کیا گیا ہے۔
امریکی فضائیہ کے لیے تیار کیے جانے والے نئے مستقل ایئر فورس ون طیاروں کی فراہمی میں تاخیر کے باعث یہ طیارہ عبوری طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔