خضدار میں قبائلی رہنما کی رہائش گاہ پر دہشت گرد حملہ،14جاں بحق،5 حملہ آور مارے گئے

واقعے کے بعد سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا،

July 9, 2026 · اہم خبریں

بلوچستان کے ضلع خضدار میں قبائلی رہنما اور پاکستان پیپلز پارٹی سے وابستہ میر شفیق الرحمن مینگل کی رہائش گاہ پر ہونے والے خودکش اور مسلح دہشت گرد حملے میں 14 افراد  جاں بحق ہو گئے، جبکہ سکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی میں پانچوں حملہ آور ہلاک کر دیے گئے۔

پولیس اور سکیورٹی ذرائع کے مطابق حملے کا آغاز اس وقت ہوا جب ایک خودکش حملہ آور نے رہائش گاہ کے مرکزی دروازے پر خود کو دھماکے سے اڑا لیا، جس سے داخلی راستہ متاثر ہوا۔ دھماکے کے فوراً بعد دیگر مسلح حملہ آور اندر داخل ہوئے اور فائرنگ شروع کر دی۔

سکیورٹی اہلکاروں نے فوری جوابی کارروائی کی، جس کے دوران تقریباً تین گھنٹے تک شدید فائرنگ کا تبادلہ جاری رہا۔ آپریشن کے اختتام پر تمام پانچ حملہ آور مارے گئے، جبکہ میر شفیق الرحمن مینگل محفوظ رہے۔ حملے میں متعدد افراد زخمی بھی ہوئے۔

واقعے کے بعد سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا، جبکہ شہداء اور زخمیوں کو علاج کے لیے سی ایم ایچ اور ٹیچنگ اسپتال خضدار منتقل کیا گیا۔

وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گرد عناصر بلوچستان کے امن و استحکام کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں، تاہم حکومت اور سکیورٹی ادارے ایسے عزائم کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔

انہوں نے میر شفیق الرحمن مینگل کی ثابت قدمی کو سراہتے ہوئے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہدایت کی کہ حملے میں ملوث تمام سہولت کاروں کو بھی جلد گرفتار کرکے قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔

یاد رہے کہ میر شفیق الرحمن مینگل اس سے قبل بھی دہشت گرد حملوں کا نشانہ بن چکے ہیں۔ 30 دسمبر 2011 کو کوئٹہ میں ان کی رہائش گاہ کے باہر ہونے والے کار بم دھماکے میں متعدد افراد شہید اور زخمی ہوئے تھے، تاہم وہ اس حملے میں بھی محفوظ رہے تھے۔